ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 8

اَفۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمۡ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلِ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ فِی الۡعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الۡبَعِیۡدِ ﴿۸﴾
کیا اس نے اللہ پر ایک جھوٹ باندھا ہے، یا اسے کچھ جنون ہے؟بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ En
یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔ یا اسے جنون ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں
En
(ہم نہیں کہہ سکتے) کہ خود اس نے (ہی) اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے دیوانگی ہے بلکہ (حقیقت یہ ہے) کہ آخرت پر یقین نہ رکھنے والے ہی عذاب میں اور دور کی گمراہی میں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ معلوم نہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اسے جنون لاحق ہو گیا [10] ہے؟“ یہ بات نہیں [11] بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیں۔
[10] کفار مکہ کا مسلمانوں سے تین باتوں میں عقائد کا اختلاف :۔
کفار مکہ آپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ یہ بات ان کے زندگی بھر کے تجربہ کے خلاف تھی۔ لیکن وہ آپ کی دعوت کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں تین باتیں تھیں جو انھیں ناگوار تھیں یا جن پر وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔
(1) وہ اس زمین و آسمان یا کائنات کے فنا ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قیامت کے قائم ہونے کے قائل نہیں تھے۔
(2) وہ بعث بعد الموت کے بھی قائل نہیں تھے۔ یعنی جب انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بنا جائے تو اس کا دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال کے مطابق ناممکنات سے تھا۔
(3) اسی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے ثواب و عذاب کے بھی قائل تھے۔ لہٰذا وہ اپنی دنیوی زندگی میں احکام الٰہی کا پابند بن جانے کے بجائے آزاد رہنا ہی پسند کرتے تھے۔ جب بھی ان لوگوں نے مذاق اڑایا تو انھیں باتوں کا اور ان میں سے بھی پہلی دو باتیں تو وہ اکثر مختلف پیرایوں میں دہراتے رہتے تھے۔ اس آیت میں ان کے سوال کا انداز تمسخر کا ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس نبی کی یہ دعوت دو ہاتھوں سے خالی نہیں ہو سکتی۔ یا تو وہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا پھر اس کی عقل جواب دے گئی ہے۔
[11] ولید بن مغیرہ کے ہاں مجلس مشاورت:۔
وہ خود بھی بھی اپنے ان دونوں احتمالات کو درست نہیں سمجھتے تھے اور سرداران قریش اپنی نجی گفتگو میں خود بھی ان احتمالات پر مطمئن نہ ہو سکے۔ نہ ایک دوسرے کو مطمئن کر سکے تھے۔ آپ کے صادق ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہے؟ اور دیوانگی کی بات تو اور بھی زیادہ مہم تھی۔ یہی سرداران قریش جب ولید بن مغیرہ کے ہاں اکٹھے ہوئے تو زیر بحث یہی موضوع تھا کہ ہم اس نبی کی دعوت کو کیسے روک سکتے ہیں اور لوگوں کو اس کے متعلق کیا کہہ سکتے ہیں تو ایک سردار نے یہ کہا تھا کہ ہم دوسروں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔ تو ولید بن مغیرہ رئیس قریش نے کہا تھا: ”اللہ کی قسم! وہ دیوانہ بھی نہیں، ہم نے دیوانوں کو دیکھا ہے اس کے اندر دیوانوں جیسی دم گھٹنے کی کیفیت ہے، نہ الٹی سیدھی حرکتیں ہیں اور نہ ان جیسی بہکی بہکی باتیں ہیں“ ولید بن مغیرہ کا یہ جواب بھی صرف سلبی انداز سے دیوانگی کی تردید تھا کیونکہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ آپ کے دوسرے لوگوں سے معاملات اور آپ کی بلندی کردار اور معقول دلائل گفتگو سے کوئی ناواقف آدمی ایک آپ کے عظیم انسان ہونے کا با آسانی اندازہ لگا سکتا تھا۔ دیوانگی کا تصور تو بڑی دور کی بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی تینوں باتوں میں سے بالخصوص تیسری بات کو انکار کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ روز آخرت کا انکار اس بنا پر نہیں کرتے کہ انھیں آخرت کے دلائل کی سمجھ نہیں آرہی یا نہیں آسکتی۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کی باز پرس سے ڈرتے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ بس کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی از خود غائب ہو جائے گی۔ انہوں نے خود ہی اپنی آنکھیں حقائق کو دیکھتے اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنے سے بند کر رکھی ہیں۔ اور اسی طریق کار سے مسلسل آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔