ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 8

لِّیَسۡـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدۡقِہِمۡ ۚ وَ اَعَدَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا اَلِیۡمًا ٪﴿۸﴾
تاکہ وہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں سوال کرے اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔ En
تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
En
تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال [13] کرے اور کافروں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
[13] انبیاء کے عہد کی ان سے باز پرس بھی ہو گی :۔
یہ محض عہد لینے تک ہی معاملہ نہیں ہو جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عہد سے متعلق پیغمبروں سے بھی سوال کرے گا۔ ان کی بھی باز پرس ہو گی۔ انھیں بھی پوچھا جائے گا کہ آیا تم نے اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ پھر اس قوم نے تمہیں کیا جواب دیا تھا؟ یا تمہاری دعوت کا رد عمل کیا ہوا تھا؟ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے۔ تاہم یہاں رسولوں کے بجائے صادقین کا لفظ آیا ہے۔ گویا ہر ایماندار سے اس کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا کیا ہو گا وہی لوگ صادق العہد قرار پائیں گے۔