لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ وَّ الۡمُرۡجِفُوۡنَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ لَنُغۡرِیَنَّکَ بِہِمۡ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوۡنَکَ فِیۡہَاۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۖۛۚ۶۰﴾
یقینا اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم تجھے ضرور ہی ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ اس میں تیرے پڑوس میں نہیں رہیںگے مگر کم۔
En
اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن
En
اگر (اب بھی) یہ منافق اور وه جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وه لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کردیں گے پھر تو وه چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں ره سکیں گے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ اگر منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں مرض [100] ہے اور مدینہ میں دہشت انگیز افواہیں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے خلاف اٹھا کھڑا [101] کریں گے۔ پھر وہ تھوڑی ہی مدت آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے
[100] منافقوں اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ واقعات کی روشنی میں :۔
یعنی ایک تو انھیں بد نظری اور شہوت پرستی کا روگ لگا ہوا ہے۔ دوسرے نفاق کا کہ وہ اپنے آپ کو شمار تو مسلمانوں میں کرتے ہیں۔ لیکن ہر معاملہ میں اس کے بدخواہ تنگ کرنے والے انھیں بدنام کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کے ساتھی مدینہ کے یہود ہیں۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ہمراز اور دونوں مسلمانوں کے ایک جیسے دشمن ہیں۔ جو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لئے مختلف قسم کی سنسنی خیز افواہیں گھڑتے اور پھیلاتے رہتے ہیں۔ مثلاً فلاں مقام پر مسلمانوں نے بڑی مار کھائی اور زک اٹھائی، فلاں مقام پر مسلمانوں کے لئے ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہورہا ہے اور عنقریب مدینہ سے مسلمانوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔ منافقوں اور یہود مدینہ کی مسلمانوں کے خلاف مشترکہ ساز باز اور گٹھ جوڑ کی داستان بڑی طویل ہے۔ میں یہاں چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔ جب بدر میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صحابہ زید بن حارثہ اور عبد اللہ بن رواحہ کو خوشخبری دینے کے لئے پہلے مدینہ بھیج دیا تھا۔ دریں اثنا، منافق یہ خبر مشہور کر چکے تھے کہ مسلمانوں کو عبرتناک شکست ہوئی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے۔ اس افواہ سے مدینہ کے مسلمان بہت سہمے ہوئے تھے کہ زید بن حارثہ دور سے اونٹنی پر سوار آتے دکھائی دیئے۔ ایک منافق کہنے لگا دیکھو زید بن حارثہ کا اترا ہوا چہرہ صاف بتا رہا ہے کہ مسلمان شکست کھا چکے ہیں پھر جب اصل حالات کا علم ہوا تو مدینہ تکبیر و تہلیل کے نعروں سے گونج اٹھا اور یہی نعرے یہود و منافقین کے قلب و جگر کو چھلنی چھلنی کر رہے تھے۔ قبیلہ بنو قینقاع یہود مدینہ میں سب سے زیادہ امیر اور شرارتی قبیلہ تھا۔ اس نے جنگ بدر کے فوراً بعد شرارتیں شروع کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور یہ بد عہد قوم جلد ہی ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں قتل کر دینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ مگر عبد اللہ بن ابی کی پر زور سفارش کی بنا پر اپنی نرمی طبع کی بنا پر یہود کی جان بخشی کر دی اور صرف جلا وطنی پر اکتفا کر لیا۔ جنگ احد کے موقعہ پر عبد اللہ بن ابی منافق نے عین موقعہ پر جس طرح مسلمانوں کا ساتھ چھوڑا تھا وہ واقعہ پہلے تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس وقت بھی منافقوں نے مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے اور مسلمانوں کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔ یہود کے دوسرے قبیلہ بنو نضیر نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چکی کا پاٹ گرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی سازش کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بچا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو الٹی میٹم دے دیا کہ دس دن کے اندر اندر وہ مدینہ کو خالی کر دیں اور جو کچھ لے جا سکتے ہیں لے جائیں دس دن بعد جو شخص بھی مدینہ میں نظر آیا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ (یہ واقعہ سورۃ حشر میں تفصیل سے آئے گا) جب یہود نکلنے کی تیاری کرنے لگے تو عبد اللہ بن ابی نے انھیں کہلا بھیجا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں میرے پاس دو ہزار مسلح آدمی ہیں جو تمہاری حفاظت میں جان دے دیں گے۔ لہٰذا اپنی جگہ پر برقرار رہو اور ڈٹ جاؤ۔ اس پیغام پر اس قبیلہ کے سردار حیی بن اخطب کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوا دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے تم سے جو بن پڑتا ہے کر لو۔ اس چیلنج پر جب مسلمانوں نے یہود کا محاصرہ کر لیا تو نہ رئیس المنافقین خود ان کی مدد کو پہنچا نہ اس کے مردان جنگی۔ وہ بھی ویسا ہی بزدل نکلا جیسا کہ یہود تھے۔ بالآخر بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا۔ غزوہ احزاب میں یہود کی عہد شکنی اور منافقوں کے کردار پر تبصرہ اسی سورۃ میں گزر چکا ہے۔ اسی عہد شکنی کی سزا دینے کے لئے جنگ احزاب کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ کر کے ان کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اب بچے کھچے سب یہودی خیبر کی طرف اکٹھے ہو رہے تھے۔ غزوہ بنی مصطلق میں منافقوں نے مسلمانوں کو دو طرح سے شدید نقصان پہنچایا۔ ایک تو عبد اللہ بن ابی نے قبائلی عصبیت کو ابھار کر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور دوسرے سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگا کر مسلمانوں کے اخلاقی محاذ پر کاری ضرب لگائی اور انھیں کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار کر دیا۔ (ان میں سے پہلا واقعہ تو سورۃ منافقون میں آئے گا اور دوسرا سورۃ نور میں گذر چکا ہے)
[101] اس سے مراد جنگ بنو قریظہ ہے جس کے بعد مدینہ یہودیوں سے مکمل طور پر پاک ہو گیا اور جو یہودی غزوہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے موقعوں پر جلا وطن کئے تھے وہ سب خیبر کی طرف چلے گئے تھے۔
[101] اس سے مراد جنگ بنو قریظہ ہے جس کے بعد مدینہ یہودیوں سے مکمل طور پر پاک ہو گیا اور جو یہودی غزوہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے موقعوں پر جلا وطن کئے تھے وہ سب خیبر کی طرف چلے گئے تھے۔