ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 46

وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾
اور اللہ کی طرف بلانے والا اس کے اذن سے اور روشنی کرنے والا چراغ۔ En
اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن
En
اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے واﻻ اور روشن چراغ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ نیز اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن [74] چراغ (بنا کر بھیجا ہے)
[74] اس مادی دنیا یا کائنات میں اللہ تعالیٰ نے سورج کو سراج (چراغ) کا نام دیا [سورة نوح: 16] جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ چاند اور ستارے بالواسطہ اسی سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور روحانی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سراج منیر (چمکتا ہوا چراغ) کا لقب عطا فرمایا۔ گویا نبوت کے آفتاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر انسان کو اپنے ہر شعبہ زندگی کے لئے ہدایت اسی آفتاب نبوت و ہدایت سے حاصل کرنا ہو گی۔