تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا:} قرآن مجید میں دو جگہ سورج کو ”سراج“ کہا گیا ہے، جیسا کہ آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا: «{ وَ جَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا }» [نوح: ۱۶] ”اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنا دیا۔“ اور دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا}» [النبا: ۱۳] ”اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا۔“ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”سراج منیر“ فرمایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے کفر و شرک کی ظلمتوں سے نکال کر ایمان کے نور کی طرف لانے کا ذریعہ بنایا، جس طرح سورج کو رات کی تاریکی ختم کر کے روشنی کا ذریعہ بنایا۔ سراجِ منیر قرار دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ رات کی تاریکی میں چاند کے نور کے باوجود روشنی کے لیے آگ یا مشعلیں جلانے کی ضرورت باقی رہتی ہے، مگر جب آفتاب عالم تاب طلوع ہوتا ہے تو کسی چراغ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد نہ کسی نبی کی پیروی باقی رہی، نہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے کسی امام، بزرگ یا پیر کی تقلید کی گنجائش ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔
گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔
وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف]
طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف]
جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41] یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143] ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔
اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔
’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الرابع: كونُه {داعياً إلى الله}؛ أي: أرسله الله يدعو الخلق إلى ربِّهم ويشوِّقُهم لكرامته ويأمُرُهم بعبادتِهِ التي خُلقوا لها، وذلك يستلزم استقامتَه على ما يدعو إليه وذِكْرَ تفاصيل ما يدعو إليه؛ بتعريفهم لربِّهم بصفاتِهِ المقدَّسة، وتنزيهه عما لا يَليق بجلالِهِ، وذكر أنواع العبوديَّة، والدعوة إلى الله بأقرب طريق موصل إليه، وإعطاء كلِّ ذي حقٍّ حقَّه، وإخلاص الدَّعوة إلى الله لا إلى نفسه وتعظيمها؛ كما قد يعرضُ ذلك لكثير من النفوس في هذا المقام، وذلك كلُّه بإذن ربه له في الدعوة وأمره وإرادتِهِ وقدره.
الخامس: كونه {سراجاً منيراً} وذلك يقتضي أنَّ الخلق في ظلمة عظيمة، لا نور يُهتدى به في ظلماتها، ولا علم يُستدلُّ به في جهاتها، حتى جاء الله بهذا النبيِّ الكريم، فأضاء الله به تلك الظلمات، وعلَّم به من الجهالات، وهدى به ضلالاً إلى الصراط المستقيم، فأصبح أهل الاستقامة قد وَضَحَ لهم الطريق، فَمَشَوْا خلف هذا الإمام، وعرفوا به الخير والشرَّ وأهلَ السعادة من أهل الشقاوة، واستناروا به لمعرفةِ معبودِهم، وعرفوه بأوصافِهِ الحميدةِ وأفعالِهِ السَّديدة وأحكامه الرشيدة.