ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 4

مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَیۡنِ فِیۡ جَوۡفِہٖ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزۡوَاجَکُمُ الِّٰٓیۡٔ تُظٰہِرُوۡنَ مِنۡہُنَّ اُمَّہٰتِکُمۡ ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدۡعِیَآءَکُمۡ اَبۡنَآءَکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ قَوۡلُکُمۡ بِاَفۡوَاہِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَ ہُوَ یَہۡدِی السَّبِیۡلَ ﴿۴﴾
اللہ نے کسی آدمی کے لیے اس کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ اس نے تمھاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو، تمھاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارے بیٹے بنایا ہے، یہ تمھارا اپنے مونہوں سے کہنا ہے اور اللہ سچ کہتا ہے اور وہی (سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔ En
خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے
En
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں رکھے، اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری (سچ مچ کی) مائیں نہیں بنایا، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو (واقعی) تمہارے بیٹے بنایا ہے، یہ تو تمہارے اپنے منھ کی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ حق بات فرماتا ہے اور وه (سیدھی) راه سجھاتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے اندر دو دل [2] نہیں بنائے۔ نہ ہی تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری مائیں بنایا ہے اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں [3] کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا ہے۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں مگر اللہ حقیقی بات کہتا ہے اور وہی صحیح راہ دکھاتا ہے
[2] اللہ کا دو دل نہ بنانے کا مفہوم :۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین حقائق بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسانوں کا اللہ نے ایک ہی دل بنایا ہے دو نہیں بنائے۔ لہٰذا ایک دل ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کو تسلیم کر سکتا ہے۔ دو متضاد حقیقتوں کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت مومن بھی ہو اور منافق بھی۔ یا وہ کافر بھی ہو اور مسلم بھی۔ ان میں سے ایک وقت میں ایک ہی حقیقت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ دو متضاد باتوں میں سے حقیقت ایک ہی ہو سکتی ہے۔ اور اگر کوئی منافق دل میں نفاق چھپا کر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ حقیقت بیان نہیں کرتا۔ بلکہ جھوٹ بولتا اور دھوکا دیتا ہے اور اس نکاح کے رد عمل سے مسلمانوں کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان میں مخلص مسلمان کتنے اور کون کون ہیں اور منافق کون ہیں جو اللہ کے حکم کے علی الرغم دوسرے دشمنوں کی دیکھا دیکھی زبان دراز کرتے ہیں۔
ظہار کا دستور بھی لغو ہے اور متبنّیٰ بنانے کا بھی کیونکہ ماں اور باپ ایک ہی ہو سکتے ہیں :۔
عرب میں طلاق کے علاوہ یہ بھی دستور تھا کہ جس عورت پر غصہ آتا اور اس سے ان بن ہو جاتی تو کہہ دیتے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ اس کام کو وہ ظہار کہتے تھے۔ یہ کہنے پر وہ عورت خاوند پر حرام ہو جاتی تھی۔ یہ دستور بھی اصلاح طلب تھا۔ اس کی اصلاح کا طریقہ اور کفارہ تو سورۃ مجادلہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے کہنے سے بیوی ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہ ہوتی ہے جس نے جنا ہو۔ تو جس طرح کسی آدمی کے اندر دو دل نہیں ہو سکتے اسی طرح کسی کی دو مائیں بھی نہیں ہو سکتیں۔ اب اگر تم بیوی کو ماں کہہ کر اسے فی الواقع ماں سمجھ بیٹھو تو یہ تو تمہارے منہ کی بات ہے جس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔
متبنّیٰ اور وراثت کے دستور کی اصلاح :۔
اور تیسری حقیقت یہ ہے کہ متبنّیٰ حقیقی بیٹے کا مقام نہیں لے سکتا۔ یہ بھی نا ممکن ہے کہ کسی کے دو باپ ہوں۔ باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے۔ دوسرا کوئی شخص نہ اس کا حقیقی باپ ہو سکتا ہے اور نہ وہ اس کا حقیقی بیٹا ہو سکتا ہے۔ متبنّیٰ اپنے نقلی باپ کا وارث نہیں بن سکتا۔ نہ باپ متبنّیٰ کا وارث ہو سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے متبنّیٰ کی مطلقہ بیوہ سے نکاح کر سکتا ہے۔ اسی طرح متبنّیٰ بھی اپنے نقلی باپ کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح کر سکتا ہے۔ اور یہی غلط دستور معاشرہ میں رائج تھا۔ جس کی اصلاح اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ زینب کے ساتھ نکاح سے فرمانا چاہتا تھا۔
[3] اس آیت میں اسی اصلاحی اقدام کی چند جزئیات بیان فرمائی جا رہی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی باپ کی نسبت سے پکارا جائے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید کو اپنا متبنّیٰ بنا لیا تو ہم لوگ انھیں زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو پھر زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی انھیں زید بن حارثہ ہی کہنے لگے۔ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام، بن مریم کبھی نہ فرماتے۔ سیدنا عیسیٰ ابن مریم کی معجزانہ پیدائش کے منکرین کے لئے یہ لمحہ فکریہ اس لحاظ سے ہے کہ قرآن نے اور کسی مرد یا عورت کا نام ابنیت سمیت ذکر نہیں کیا۔