اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
En
اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے
اور اگر تمہاری مراد اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر ہے تو (یقین مانو کہ) تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں
En
29۔ اور اگر تم اللہ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکو کاروں [41] کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے
[41] آیت تخییر :۔
اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل اختیار دیا تھا کہ آپ چاہیں تو ایسی اجتماعی طور پر خرچ کے اضافہ کا مطالبہ کرنے اور اس طرح دباؤ ڈالنے والی بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کر دیں اور چاہیں تو اپنے پاس رکھیں۔ بشرطیکہ آئندہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلہ میں پریشان نہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کے ایلاء (بیویوں سے الگ رہنے) کا فیصلہ کیا تھا۔ انتیس دن گزرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے بالا خانہ سے واپس اپنے گھر تشریف لائے سب سے پہلے سیدہ عائشہؓ ہی کے گھر آئے۔ پھر جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو استعمال کیا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے: بیویوں کا جواب: 1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیجئے (خواہ وہ آپ کے ساتھ رہنا چاہیں یا طلاق لے لیں) تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا: عائشہ! میں تمہیں ایک بات کہتا ہوں مگر تم اس میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دینا۔ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ﴿يٰٓاَيُّهَاالنَّبِيُّقُلْلِّاَزْوَاجِكَ... عَظِيمًا﴾ (تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا) میں نے کہا: ”میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی میں تو خود (بہرحال) اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات دوسری بیویوں سے پوچھی تو سب نے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ماہ کا کہا تھا اور آج انتیس دن ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس دن کا بھی۔ (گویا وہ مہینہ انتیس دن کا تھا) [بخاری۔ کتاب الصوم۔ باب قول النبی اذا رأیتم الہلال فصوموا، مسلم کتاب الصیام۔ باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال۔۔۔]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔