تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ:} شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یہ جو فرمایا {” لِلْمُحْسِنٰتِ “} (جو نیکی پر رہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سب نیک ہی رہیں، مگر حق تعالیٰ صاف خوش خبری کسی کو نہیں دیتا، تاکہ نڈر نہ ہو جائے، خاتمہ کا ڈر لگا رہے۔“
➌ { اَجْرًا عَظِيْمًا:} مفسر آلوسی نے فرمایا: ”جب ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا اور انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو اور دار آخرت کو پسند کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی تعریف فرمائی اور فرمایا: «{ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ }» [الأحزاب: ۵۲] ”تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے۔“ (روح المعانی) ان بیویوں سے مراد وہ نو بیویاں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ اس سے بڑا اجر کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اور عمل صالح کی صورت میں دوہرے اجر کی بشارت دی، پھر اس کے صلے میں انھیں زندگی بھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل رہا اور جنت میں بھی وہ آپ کے ساتھ ہوں گی۔ [رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُنَّ وَ أَرْضَاھُنَّ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیجئے (خواہ وہ آپ کے ساتھ رہنا چاہیں یا طلاق لے لیں) تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا: عائشہ! میں تمہیں ایک بات کہتا ہوں مگر تم اس میں جلدی نہ کرنا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے جواب دینا۔ اور آپ یہ بات خوب جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ﴿يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ... عَظِيمًا﴾ (تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا) میں نے کہا: ”میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے کیا مشورہ کروں گی میں تو خود (بہرحال) اللہ، اس کے رسول اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات دوسری بیویوں سے پوچھی تو سب نے وہی جواب دیا جو میں نے دیا تھا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ماہ کا کہا تھا اور آج انتیس دن ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ مہینہ تیس دن کا بھی ہوتا ہے اور انتیس دن کا بھی۔ (گویا وہ مہینہ انتیس دن کا تھا) [بخاری۔ کتاب الصوم۔ باب قول النبی اذا رأیتم الہلال فصوموا، مسلم کتاب الصیام۔ باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال۔۔۔]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ آپ کی تمام بیویوں سے جو ہماری مائیں ہیں خوش رہے۔ سب نے اللہ کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور دار آخرت کو ہی پسند فرمایا جس پر رب راضی ہو اور پھر آخرت کے ساتھ ہی دنیا کی مسرتیں بھی عطا فرمائیں۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { اس آیت کے اترتے ہی اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمانے لگے کہ { میں ایک بات کا تم سے ذکر کرنے والا ہوں تم جواب میں جلدی نہ کرنا اپنے ماں باپ سے مشورہ کر کے جواب دینا }۔ یہ تو آپ جانتے ہی تھے کہ ناممکن ہے کہ میرے والدین مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کرنے کا مشورہ دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ماں باپ سے مشورہ کرنے کی کون سی بات ہے۔ مجھے اللہ پسند ہے اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند ہیں اور آخرت کا گھر پسند ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4785]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور تمام بیویوں نے بھی وہی کیا جو میں نے کیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4786]
اور روایت میں ہے کہ { تین دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ { دیکھو بغیر اپنے ماں باپ سے مشورہ کئے کوئی فیصلہ نہ کر لینا }، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا جواب سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوگئے اور ہنس دیئے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28464:]
{ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے ان سے پہلے ہی فرما دیتے تھے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو یہ جواب دیا ہے } وہ کہتی تھیں یہی جواب ہمارا بھی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28465:]
فرماتی ہیں کہ { اس اختیار کے بعد جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا تو اختیار طلاق میں شمار نہیں ہوا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5262]
مسند احمد میں ہے کہ { سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے اجازت ملی نہیں۔ اتنے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ ملی تھوڑی دیر میں دونوں کو یاد فرمایا گیا۔ گئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا دیکھو میں اللہ کے پیغمبر کو ہنسا دیتا ہوں۔
یہ سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمانے لگے { یہاں بھی یہی قصہ ہے دیکھو یہ سب بیٹھی ہوئی مجھ سے مال طلب کر رہی ہیں؟ } سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف لپکے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اور فرمانے لگے ”افسوس تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ مانگتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں۔“
وہ تو کہئے خیر گزری جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا ورنہ عجب نہیں دونوں بزرگ اپنی اپنی صاحبزادیوں کو مارتے۔ اب تو سب بیویاں کہنے لگیں کہ اچھا قصور ہوا اب سے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہرگز اس طرح تنگ نہ کریں گی۔
اب یہ آیتیں اتریں اور دنیا اور آخرت کی پسندیدگی میں اختیار دیا گیا۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے آخرت کو پسند کیا جیسے کہ تفصیل وار بیان گزر چکا۔ ساتھ ہی درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے یہ نہ فرمائیے گا کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ { طلاق کا اختیار نہیں دیا گیا تھا بلکہ دنیا یا آخرت کی ترجیح کا اختیار دیا تھا } ۱؎ [مسند احمد:78/1:ضعیف]
لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے اور یہ آیت کے ظاہری لفظوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ پہلی آیت کے آخر میں صاف موجود ہے کہ ’ آؤ میں تمہارے حقوق ادا کر دوں اور تمہیں رہائی دے دوں ‘۔ اس میں علماء کرام کا گو اختلاف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو پھر کسی کو ان سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ لیکن صحیح قول یہ ہے کہ جائز ہے تاکہ اس طلاق سے وہ نتیجہ ملے یعنی دنیا طلبی اور دنیا کی زینت و رونق وہ انہیں حاصل ہو سکے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
جب یہ آیت اتری اور جب اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کو سنایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ پانچ تو قریش سے تعلق رکھتی تھیں عائشہ، حفصہ، سودہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہن اور صفیہ بنت جی قبیلہ نضر سے تھیں، میمونہ بنت حارث ہلالیہ تھیں، زینب بنت حجش اسدیہ تھیں اور جویریہ بنت حارث جو مصطلقیہ تھیں «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ اَجْمَعِیْنَ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الله ورسولَه والدارَ الآخرة}؛ أي: هذه الأشياء مرادُكُنَّ وغايةُ مقصودِكُنَّ، وإذا حصل لَكُنَّ الله ورسوله والجنة؛ لم تبالينَ بسعة الدنيا وضيقها ويُسرها وعُسرها، وقنعتنَّ من رسول الله بما تيسَّر، ولم تطلبنَ منه ما يشقُّ عليه، {فإنَّ الله أعدَّ للمحسناتِ منكنَّ أجراً عظيماً}: رتَّب الأجر على وصفهنَّ بالإحسان؛ لأنَّه السبب الموجب لذلك، لا لكونهنَّ زوجاتٍ للرسول؛ فإنَّ مجرَد ذلك لا يكفي، بل لا يفيدُ شيئاً مع عدم الإحسان، فخيَّرَهُنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في ذلك، فاخترنَ الله ورسوله والدار الآخرة كلُّهن ، لم يتخلفْ منهنَّ واحدةٌ رضي الله عنهن.
وفي هذا التخيير فوائدُ عديدة:
منها: الاعتناءُ برسوله والغيرةُ عليه أن يكون بحالة يشقُّ عليه كثرةُ مطالب زوجاته الدنيويَّة.
ومنها: سلامتُه - صلى الله عليه وسلم - بهذا التخيير من تَبِعَةِ حقوق الزوجات، وأنَّه يبقى في حرِّية نفسه إن شاء أعطى وإن شاء منع، ما كان على النبيِّ من حرج فيما فرضَ الله له.
ومنها: تنزيهُهُ عمَّا لو كان فيهنَّ مَنْ تؤثِرُ الدُّنيا على الله ورسوله والدار الآخرة عنها، وعن مقارنتها.
ومنها: سلامةُ زوجاتِهِ رضي الله عنهنَّ عن الإثم والتعرُّض لسخط اللَّه ورسوله، فحسم الله بهذا التخيير عنهنَّ التسخُّط على الرسول الموجب لسَخَطِهِ المُسْخِطِ لربِّه الموجب لعقابه.
ومنها: إظهار رفعتهنَّ وعلوِّ درجتهنَّ وبيان علوِّ هممهنَّ أن كان اللهُ ورسولُه والدار الآخرة مرادَهُنَّ ومقصودَهن دون الدُّنيا وحطامها.
ومنها: استعدادُهُنَّ بهذا الاختيار للأمر الخيار للوصول إلى خيار درجات الجنة وأنْ يكنَّ زوجاتِهِ في الدُّنيا والآخرة.
ومنها: ظهورُ المناسبة بينه وبينهنَّ؛ فإنَّه أكمل الخلق، وأراد الله أن تكون نساؤه كاملاتٍ مكمَّلاتٍ طيباتٍ مطيَّباتٍ، {الطيِّباتُ للطيبين والطيِّبونَ للطيبات}.
ومنها: أنَّ هذا التخيير داعٍ وموجب للقناعة التي يطمئنُّ لها القلبُ وينشرحُ لها الصدرُ، ويزول عنهنَّ جشعُ الحرص وعدم الرِّضا الموجب لقلق القلب واضطرابِهِ وهمِّه وغمِّه.
ومنها: أن يكون اختيارهنَّ هذا سبباً لزيادة أجرهنَّ ومضاعفتِهِ، وأن يكنَّ بمرتبةٍ ليس فيها أحدٌ من النساء، ولهذا قال: