وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو غافل کرنے والی بات خریدتا ہے، تاکہ جانے بغیر اللہ کے راستے سے گمراہ کرے اور اسے مذاق بنائے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
En
اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بیہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے رستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزاء کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا
En
اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بےعلمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں، یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو اس لئے بیہودہ [4] باتیں خریدتا ہے کہ بغیر علم [5] کے اللہ کی راہ سے بہکا دے اور اس کا مذاق اڑائے [6] ایسے ہی لوگوں کے لئے رسوا کرنے [7] والا عذاب ہے۔
[4] ﴿لهو الحديث﴾ سے کیا مراد ہے؟ گانے بجانے اور ساز و مضراب سے کراہیت:۔
﴿لهو الحديث﴾ سے مراد ہر وہ بات، شغل یا کھیل یا تفریح ہے۔ جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دے یا غافل رکھے۔ خواہ یہ شغل، گانا بجانا ہو یا دلچسپ ناول اور ڈرامے ہوں یا کلب گھروں کی تفریحات ہوں یا ٹی وی کا شغل ہو یا ڈرامے اور سینما بینی ہو۔ غرض ﴿لهو الحديث﴾ کا اطلاق عموماً مذموم اشغال پر ہوتا ہے۔ اب اس لفظ کی تشریح مندرجہ ذیل احادیث و آثار کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے:
(1) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں ﴿لهو الحديث﴾ کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے [فتاويٰ ابن باز۔ اردو ترجمه ج 1 ص 313]
(2) حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور امر جاہلیت کو ختم کروں“ [احمد بحواله مشكوة۔ كتاب الحدود۔ باب بيان الخمرو وعيد شاربها فصل ثالث]
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانا بجانا کرنے والی عورتوں کو نہ بیچو، نہ خریدو اور نہ انھیں یہ کلام سکھلاؤ اور ان کی اجرت حرام ہے“ [ترمذی۔ ابواب البیوع۔ باب کراہیۃ المغنیات]
(4) ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم کو، شراب کو اور معازف یعنی آلات ساز و مضراب اور گانے بجانے کو حلال کر لیں گے۔ [بخاری۔ کتاب الاشربہ باب ما جاء فیمن یستحل الخمرو يسمیہ بغير اسمہ]
یعنی ان چیزوں کے دوسرے نام رکھ کر انھیں جائز بنا لیں گے۔
(1) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ قرآن میں ﴿لهو الحديث﴾ کا لفظ گانا اور موسیقی کے لئے آیا ہے۔ نیز آپ فرمایا کرتے کہ گانا بجانا دل میں یوں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے گھاس اور سبزہ اگ آتا ہے [فتاويٰ ابن باز۔ اردو ترجمه ج 1 ص 313]
(2) حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے اور میرے پروردگار عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں باجوں گاجوں، ساز و مضراب، بتوں، صلیبوں اور امر جاہلیت کو ختم کروں“ [احمد بحواله مشكوة۔ كتاب الحدود۔ باب بيان الخمرو وعيد شاربها فصل ثالث]
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانا بجانا کرنے والی عورتوں کو نہ بیچو، نہ خریدو اور نہ انھیں یہ کلام سکھلاؤ اور ان کی اجرت حرام ہے“ [ترمذی۔ ابواب البیوع۔ باب کراہیۃ المغنیات]
(4) ابو مالک اشعری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کو، ریشم کو، شراب کو اور معازف یعنی آلات ساز و مضراب اور گانے بجانے کو حلال کر لیں گے۔ [بخاری۔ کتاب الاشربہ باب ما جاء فیمن یستحل الخمرو يسمیہ بغير اسمہ]
یعنی ان چیزوں کے دوسرے نام رکھ کر انھیں جائز بنا لیں گے۔
نضر بن حارث کا اسلام روکنے میں کردار:۔
اور اس آیات کا شان نزول یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو غیر موثر بنانے کے لئے جو لوگ ادھار کھائے بیٹھے تھے ان میں سے ایک نضر بن حارث بھی تھا۔ اس کا طریق کار ابو لہب سے بالکل جداگانہ تھا۔ ایک دفعہ وہ سرداران قریش سے کہنے لگا: قریشیو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی تھے۔ سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ امین تھے اب اگر وہ اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں تو تم کبھی انھیں شاعر کہتے ہو، کبھی کاہن، کبھی پاگل اور کبھی جادوگر کہتے ہو۔ حالانکہ وہ نہ شاعر ہیں، نہ کاہن، نہ پاگل اور نہ جادوگر ہیں۔ کیونکہ ہم ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔ اے اہل قریش! سوچو! تم پر یہ کیسی افتاد آپڑی ہے۔ پھر اس افتاد کا جو حل نضر بن حارث نے سوچا وہ یہ تھا کہ وہ خود حیرہ گیا۔ وہاں سے بادشاہوں کے حالات اور رستم و اسفند یار کے قصے سیکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کہیں بھی جا کر اپنا پیغام سناتے، ابو لہب کی طرح نضر بن حارث بھی وہاں پہنچ کر یہ قصے سناتا پھر لوگوں سے پوچھتا کہ آخر کس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مجھ سے بہتر ہے؟ علاوہ ازیں اس نے چند لونڈیاں بھی خرید رکھی تھیں۔ جب کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل ہونے لگتا تو وہ کسی لونڈی کو اس پر مسلط کر دیتا کہ وہ لونڈی اسے کھلائے پلائے اور اس کی فکر کا رخ موڑ دے۔ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [ابن هشام۔ 21: 271]
[5] بغیر علم کی نسبت اللہ کی راہ کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور ﴿لهو الحديث﴾ کی طرف بھی۔ پہلی صورت تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی اس کا اللہ کی راہ سے بہکانا محض بغض و عناد اور ضد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں ہے۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ وہ اس قدر جاہل ہے جو اللہ کی سیدھی راہ اور ہدایت جیسی قیمتی چیز کے عوض تباہ کن چیز خرید رہا ہے۔
[5] بغیر علم کی نسبت اللہ کی راہ کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور ﴿لهو الحديث﴾ کی طرف بھی۔ پہلی صورت تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی اس کا اللہ کی راہ سے بہکانا محض بغض و عناد اور ضد پر مبنی ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں ہے۔ اور دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ وہ اس قدر جاہل ہے جو اللہ کی سیدھی راہ اور ہدایت جیسی قیمتی چیز کے عوض تباہ کن چیز خرید رہا ہے۔
[6] ثقافتِ جاہلیہ :۔
یعنی وہ شخص گانا، بجانا، قصے کہانیاں اور رقص و سرور جیسی ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کی آیات سے دور رکھنا اور ان آیات کا مذاق اڑانا چاہتا ہے۔
[7] اس کے جرم اور اس کی سزا میں مناسبت یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی ذلیل کرنے والا دیا جائے گا۔
[7] اس کے جرم اور اس کی سزا میں مناسبت یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی ذلیل کرنے والا دیا جائے گا۔