بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ مائوں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
En
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے
En
34۔ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس [49] ہے وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے بطنوں میں کیا کچھ ہے۔ نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ کل کیا کام کرے گا۔ اور نہ ہی یہ جانتا ہے کہ کس سر زمین [50] میں وہ مرے گا۔ اللہ ہی ہے جو سب کچھ جاننے والا اور وہ بڑا با خبر ہے۔
[49] حدیث جبریل:۔
کفار مکہ اکثر آپ سے پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ کتاب و سنت میں اس کے کئی الگ الگ جواب مذکور ہیں۔ مثلاً ایک جواب یہ ہے کہ قیامت جب بھی آئی یک لخت ہی آ جائے گی۔ کبھی قرب قیامت کی علامات بتلا دی گئیں۔ ایک صحابی نے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا: کیا تم نے اس کے لئے کچھ تیاری کر رکھی ہے؟ ایک سائل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جواب دیا کہ جو شخص مر گیا بس اس کی قیامت قائم ہو گئی۔ لیکن اس سوال کا بالکل ٹھیک جواب یہی ہے کہ قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے۔ کسی نبی کو بھی نہیں حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہ تھا۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی پیدل چلتا ہوا آیا (یہ جبریلؑ تھے) اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے، اور (قیامت کے دن) ان سے ملنے کا یقین رکھے اور مر کر جی اٹھنے پر ایمان لائے، پھر وہ کہنے لگا: ”اسلام کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تو صرف اللہ ہی کی پرستش کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے نماز اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمضان کے روزے رکھے۔ پھر اس نے پوچھا: ”احسان کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی یوں عبادت کرے جیسے اسے دیکھ رہا ہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو کم از کم یہ سمجھ کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے یہ سوال کر رہے ہو وہ بھی سائل سے زیادہ نہیں جانتا (یعنی دونوں ایک جیسے ناواقف ہیں) البتہ میں تجھے قیامت کی وہ نشانیاں بتلاتا ہوں ایک یہ ہے کہ عورت اپنا مالک جنے گی۔ دوسرے یہ کہ ننگے پاؤں پھرنے والے اور ننگے بدن (گنوار قسم کے لوگ) لوگوں کے رئیس ہوں گے۔ دیکھو ان پانچ باتوں میں سے ایک قیامت بھی ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی، اور بارش کب برسے گی، اور ماؤں کے پیٹ میں کیا کچھ (تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے) پھر وہ شخص لوٹ کر چل دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذرا اسے بلا لاؤ۔ لوگ بلانے لگے تو دیکھا وہاں کوئی نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرئیل تھے جو آپ لوگوں کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے“ [بخاري۔ كتاب التفسير] یہ حدیث، حدیث جبرئیلؑ کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ قیامت کا معین وقت نہ جبرئیلؑ کو معلوم تھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اس کا معین وقت نہ بتلانے میں حکمت یہ ہے کہ قیامت کا معین وقت اور اسی طرح کسی کو اس کی موت کا متعین وقت بتلا دینے سے اس دنیا کے دار الامتحان ہونے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ اسی لئے نہ موت کے وقت کا ایمان مقبول ہے اور نہ قیامت کو مقبول ہو گا جبکہ جب قیامت کی صریح علامات مثلاً سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ ظاہر ہو گئیں تو اس وقت بھی ایمان لانا مقبول نہ ہو گا۔
[50] غیب کے جن امور کا انسان کو علم نہیں ہو سکتا:۔
قیامت کے علاوہ چار باتیں اور بھی ہیں۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان چار میں سے پہلی بات یہ ہے کہ نفع رساں بارش کب ہو گی۔ دوسری یہ کہ مادر رحم میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جب جنین میں روح ڈالی جاتی ہے تو ساتھ ہی فرشتہ اس کی عمر، اس کی روزی، (یعنی اسے کتنا رزق ملے گا) خوشحال ہو گا یا تنگ دست، نیز یہ کہ نیک بخت ہو گا یا بد بخت یہ باتیں بھی مادر رحم کے مراحل میں شامل ہیں۔ تیسری یہ بات کہ وہ کل کیا کرے گا یعنی اسے توبہ کی توفیق نصیب ہو گی یا نہیں۔ بلکہ اسے کل تک جینا بھی نصیب ہو گا یا نہیں۔ اور چوتھی یہ بات کہ وہ کب اور کہاں مرے گا۔ یہ چار باتیں ایسی ہیں جن سے ہر انسان کو دلچسپی ہوتی ہے۔ اس لئے بالخصوص ان باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ورنہ اور بھی کئی امور ایسے ہیں۔ جو غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تک انسان کی رسائی نہیں ہو سکتی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔