ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 55

وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسمیں کھائیں گے کہ وہ ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے۔ اسی طرح وہ بہکائے جاتے تھے۔ En
اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے
En
اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناه گار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ: ”ہم تو ایک گھڑی [61] سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے“ اسی طرح وہ (دنیا میں بھی) غلط اندازے لگایا کرتے تھے
[61] کافروں کے اندازے دنیا میں بھی غلط اور آخرت میں بھی غلط ہوں گے :۔
یہ مدت دنیا کی بھی ہو سکتی ہے اور عالم برزخ کی بھی اور دونوں کی بھی۔ اگرچہ مجرموں کو قبر میں بھی عذاب ہوتا ہے مگر یہ عذاب اخروی عذاب کے مقابلہ میں اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ مجرم لوگ اس عذاب قبر کو بھی راحت کی گھڑیاں ہی تصور کریں گے۔ قیامت میں اپنا انجام اور اپنے لئے عذاب دیکھ کر قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم محض ایک گھڑی دنیا میں رہے تھے کیا اچھا ہوتا کہ اتنا تھوڑا سا وقت ہم اللہ کی فرمانبرداری میں گزار لیتے اور یہ برا دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ وہاں تو ان کا یہ اندازہ ہو گا اور دنیا میں وہ ایسے اندازے لگاتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جیسے انھیں اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ اللہ سے بھی غافل ہیں اور اپنی موت سے بھی۔ دنیا میں بھی ان کے اندازے غلط اور سراسر باطل تھے۔ آخرت میں بھی غلط ہی اندازے لگائیں گے۔