ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الروم (30) — آیت 38

فَاٰتِ ذَاالۡقُرۡبٰی حَقَّہٗ وَ الۡمِسۡکِیۡنَ وَ ابۡنَالسَّبِیۡلِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَ اللّٰہِ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۸﴾
پس قرابت والے کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کا چہرہ چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ En
تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں
En
پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے، یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منھ دیکھنا چاہتے ہوں، ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ (اے مسلمانو!) اپنے قرابت والے کو ' مسکین [42] اور مسافر کو اس کا حق دو۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ کامیاب [43] ہوں گے۔
[42] مال و دولت میں دوسروں کا حق:۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ قرابتداروں کو، محتاجوں کو اور مسافروں کو بطور صدقہ خیرات کچھ دے دیا کرو۔ بلکہ یوں فرمایا کہ ان کا حق انھیں ادا کرو۔ اور اس لفظ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر دہرایا ہے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ تمہارے اموال میں ان قرابتداروں اور محتاجوں کا رزق بھی آ گیا ہے۔ لہٰذا ان کا حق انھیں ادا کر دو۔ اور اس کی ادائیگی میں تمہارا ان پر کچھ احسان نہیں ہو گا۔ بلکہ تمہارے سر سے تمہارا اپنا بوجھ اترے گا۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ قرابت داروں سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن سے نکاح حرام ہے۔ لیکن اس صراحت کا کوئی خاص فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہر شخص اپنے ناطے والوں کو خوب جانتا ہے اور سب رشتہ دار تو حقدار نہیں ہوتے بلکہ وہ حقدار ہیں جو محتاج ہوں۔ گویا سب سے پہلے وہ محتاج حقدار ہیں جو رشتہ دار ہوں، اس کے بعد عام محتاجوں کی باری آلے گی۔ اور مسافر جب راستہ میں محتاج ہو جائے تو وہ بھی حقدار ہے خواہ وہ اپنے گھر سے کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔ اب دیکھئے جس معاشرہ میں ہر انسان ان مذکورہ حقداروں کے حق ادا کرتا رہے اس معاشرہ میں کوئی شخص مفلس اور قلاش رہ سکتا ہے؟
[43] مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذکورہ حقوق ادا نہیں کرتے وہ فلاح نہیں پا سکتے۔ فلاح صرف وہ پا سکتے ہیں جو مذکورہ حقداروں کو ان کے حقوق ادا کریں۔ اور اللہ کی رضا مندی کے لئے ادا کریں۔ ان پر احسان رکھ کر نہ کریں، نہ ہی ان سے کسی قسم کے شکریہ یا بدلہ کے طلبگار ہوں۔