اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے، اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو اچانک وہ نا امید ہو جاتے ہیں۔
En
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزه چکھاتے ہیں تو وه خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وه محض ناامید ہو جاتے ہیں
En
36۔ اور جب ہم انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو یہ اترانے [40] لگتے ہیں۔ اور جب ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو آس توڑ بیٹھتے ہیں۔
[40] انسان کی تنگ ظرفی اور چھچھورا پن :۔
اس آیت میں انسان کی نا شکری، تنگ ظرفی اور چھچھورے پن کا ذکر ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اس پر خوشحالی کے دن آتے ہیں تو پھولا نہیں سماتا۔ اس کی وضع قطع چال ڈھال اور گفتگو سے ہی اس کی نخوت کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس وقت وہ نہ اپنے خالق کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ خلق خدا کو اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے ہی سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے جو اسے یہ عیش و آرام میسر ہے۔ پھر جب کسی وقت اس پر برے دن آجاتے ہیں۔ تو بھی اللہ کی نا شکری ہی کرنے لگتا ہے اور اللہ کی رحمت سے مایوسی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس مومن کی حالت اس کے بالکل الٹ ہوتی ہے۔ اس پر خوشحالی کے دن آئیں تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے آگے پہلے سے زیادہ جھک جاتا ہے۔ اور جب سختی کے دن آئیں تو نہایت صبر و تحمل سے یہ زمانہ گزارتا ہے اور اللہ کا شکر ہر حال میں ادا کرتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔