ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 96

اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۹۶﴾
بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ En
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت
En
اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت وہدایت واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ بلا شبہ سب سے پہلا گھر (عبادت گاہ) جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے، اس گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں [84] کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا
[84] قبلہ اول کعبہ ہی ہے:۔
یہ یہود کے ایک دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ تمام انبیاء کا قبلہ بیت المقدس ہی رہا ہے اور تمام انبیاء نے وہاں ہجرت کی۔ لہٰذا یہ مقام کعبہ سے افضل ہے اب مسلمانوں نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو اپنا قبلہ بنایا ہے تو یہ ملت ابراہیمی سے روگردانی کی ہے۔ اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ لوگوں کی عبادت کے لیے سب سے پہلے جو گھر تعمیر ہوا۔ وہ بیت اللہ تھا۔ بیت المقدس نہیں تھا۔ کیونکہ بیت اللہ ہی وہ گھر ہے جسے حضرت ابراہیمؑ نے اللہ ہی کی عبادت کے لیے لوگوں کے مرجع کی حیثیت سے تعمیر کیا تھا اور بیت المقدس کو تو حضرت سلیمانؑ نے حضرت موسیٰؑ کی وفات کے چار سو سال بعد تعمیر کیا تھا اور حضرت سلیمانؑ ہی کے عہد میں یہ قبلہ اہل توحید کے لیے بنایا گیا تھا۔ لہٰذا قبلہ اول تو در اصل کعبہ ہی ہے۔ تحویل قبلہ پر یہود کے اعتراض کا جواب سورۃ بقرہ [آيت 142 تا 150] میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔ مگر یہود چونکہ اپنے اس اعتراض کو اس کے بعد بھی بار بار دہراتے رہے۔ لہٰذا پھر سے ان کے اعتراض کا تاریخی پہلو سے بھی جواب دیا گیا ہے۔