تم پوری نیکی ہر گز حاصل نہیں کرو گے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو اور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے تو بے شک اللہ اسے خوب جاننے والاہے۔
En
(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
92۔ تم اس وقت تک اصل نیکی حاصل نہ کر سکو گے جب تک وہ کچھ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب [81] ہو۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اللہ اسے خوب جانتا ہے
[81] پسندیدہ مال خرچ کرنے کی فضیلت:۔
اگرچہ سابقہ مضمون یہود سے سے متعلق چل رہا ہے۔ تاہم اس آیت کا خطاب یہود، نصاریٰ، مسلمانوں اور سب بنی نوع انسان سے ہے اور مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے دل میں گھٹن سی پیدا ہونے لگتی ہے اور اگر کسی کے کہنے کہلانے پر مال خرچ کرنا ہی پڑے تو اس کا جی یہ چاہتا ہے کہ تھوڑا سا مال یا کوئی حقیر قسم کا مال دے کر چھوٹ جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ جب تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کرو گے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پا نہیں سکتے۔ اس آیت کا صحابہ کرامؓ نے بہت اچھا اثر قبول کیا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ: انصار میں حضرت ابو طلحہؓ کے سب سے زیادہ باغ تھے۔ ان میں سے بیرحاء کا باغ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔ آپ اس باغ میں جایا کرتے تھے اور وہاں عمدہ اور شیریں پانی پیتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہؓ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”میری کل جائیداد سے بیرحاء کا باغ مجھے بہت پیارا ہے۔ میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس سے ثواب اور اللہ کے ہاں ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں، آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب! یہ مال تو بالآخر فنا ہونے والا ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال تو بہت نفع دینے والا ہے۔ اب تم ایسا کرو کہ اپنے غریب رشتہ داروں میں بانٹ دو۔ ابو طلحہؓ کہنے لگے! بہت خوب! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسے ہی کرتا ہوں۔ چنانچہ یہ باغ حضرت ابو طلحہؓ نے اپنے اقارب اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا۔ [بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب] اور بالخصوص اس آیت کے مخاطب یہود ہیں۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے اور بعد والی آیات میں انہیں سے خطاب کیا جا رہا ہے۔ سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل ان کی طبیعتوں میں رچ بس گیا تھا۔ مذہبی تقدس اور پہچان کے لیے انہوں نے چند ظاہری علامات کو ہی معیار بنا رکھا تھا اسی تقدس کے پردہ میں ان کی تمام تر قباحتیں چھپ جاتی تھیں۔ جن میں سے ایک قباحت بخل اور مال سے شدید محبت تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں