تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ …:} مقصد یہ کہ انسان جو کچھ بھی فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے، تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور انسان کو (بشرطیکہ مسلمان ہو اور اخلاص سے خرچ کرے) اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اس لیے معمولی چیز خرچ کرنے کو بھی عار نہ سمجھے۔مگر نیکی میں کامل درجہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزیز ترین چیز صرف کی جائے۔ یہ آیت سن کر اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی ایک دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری جائداد میں سے مجھے سب سے محبوب {”بَيْرُحَاء“ } باغ ہے (جو عین مسجد نبوی کے سامنے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا نفیس پانی پیا کرتے تھے) اور اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» سو میں اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور اس کے اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں، آپ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرما دیں۔“
[بخاری، الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الأقارب …: ۱۴۶۱، مختصرًا]عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں سے جو حصہ ملا ہے اس سے بڑھ کر نفیس مال مجھے آج تک حاصل نہیں ہوا، میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے صدقہ کر دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اصل اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کے راستے میں تقسیم کر دو۔“ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وقف کر دیا۔ [بخاری، الشروط، باب الشروط فی الوقف: ۲۷۳۷۔ ابن ماجہ:۲۳۹۶، ۲۳۹۷]
➌ یہود سے خطاب کی صورت میں شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”شاید یہود کے ذکر میں یہ آیت اس واسطے ذکر فرمائی کہ ان کو اپنی ریاست بہت عزیز تھی، جس کے تھامنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نہ ہوتے تھے، تو جب وہی نہ چھوڑیں تو اللہ کی راہ میں درجۂ ایمان نہ پائیں۔“ (موضح)
➍ {مِمَّا تُحِبُّوْنَ:} اللہ کا کرم دیکھیے، بندوں سے ان کی محبوب چیزیں ساری نہیں مانگیں، بلکہ اس میں سے کچھ خرچ کرنے ہی کو کامل نیکی قرار دے دیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب]
اور بالخصوص اس آیت کے مخاطب یہود ہیں۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے اور بعد والی آیات میں انہیں سے خطاب کیا جا رہا ہے۔ سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل ان کی طبیعتوں میں رچ بس گیا تھا۔ مذہبی تقدس اور پہچان کے لیے انہوں نے چند ظاہری علامات کو ہی معیار بنا رکھا تھا اسی تقدس کے پردہ میں ان کی تمام تر قباحتیں چھپ جاتی تھیں۔ جن میں سے ایک قباحت بخل اور مال سے شدید محبت تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ مرغوب مال خیبر کی زمین کا حصہ ہے میں اسے راہ اللہ دینا چاہتا ہوں فرمائیے کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اسے وقف کر دو اصل روک لو اور پھل وغیرہ راہ اللہ کر دو۔[صحیح بخاری:2737] ۱؎
مسند بزاز میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے اس آیت کی تلاوت کر کے سوچا تو مجھے کوئی چیز ایک کنیز سے زیادہ پیاری نہ تھی۔ میں نے اس لونڈی کو راہ للہ آزاد کر دیا، اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے نام پردے کر پھر لوٹا لینا جائز ہو تو میں کم از کم اس سے نکاح کر لیتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني {لن تنالوا} وتدركوا {البر}، الذي هو اسم جامع للخيرات وهو: الطريق الموصل إلى الجنة {حتى تنفقوا مما تحبون} من أطيب أموالكم وأزكاها، فإن النفقة من الطيب المحبوب للنفوس من أكبر الأدلة على سماحة النفس واتصافها بمكارم الأخلاق ورحمتها ورقتها، ومن أدل الدلائل على محبة الله وتقديم محبته على محبة الأموال التي جبلت النفوس على قوة التعلق بها، فمن آثر محبة الله على محبة نفسه فقد بلغ الذروة العليا من الكمال وكذلك من أنفق الطيبات وأحسن إلى عباد الله أحسن الله إليه ووفقه أعمالاً وأخلاقاً لا تحصل بدون هذه الحالة. وأيضاً فمن قام بهذه النفقة على هذا الوجه كان قيامه ببقية الأعمال الصالحة والأخلاق الفاضلة من طريق الأولى والأحرى، ومع أن النفقة من الطيبات هي أكمل الحالات فمهما أنفق العبد من نفقة قليلة أو كثيرة من طيب أو غيره {فإن الله به عليم}، وسيجزي كل منفق بحسب عمله، سيجزيه في الدنيا بالخلف العاجل وفي الآخرة بالنعيم الآجل.