وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾
اور کسی نبی کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے، اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کی، پھر ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
En
ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے ہر خیانت کرنے واﻻ خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وه ﻇلم نہ کئے جائیں گے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
161۔ یہ نبی کے شایان شان نہیں [157] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [157۔ 1] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہو جائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہو گا
[157] حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہو گئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ترمذي، ابواب التفسير] اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداًء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہو جانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اموال غنیمت میں ہمارا حصہ ہی نہ لگائیں۔ تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے ایسی نا انصافی یا خیانت ممکن ہی نہیں۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امین ہوتا ہے۔ بد ظنی سے اجتناب نہایت ضروری ہے:۔
چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے یمن سے ایک رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ جس سے ابھی مٹی بھی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کو چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا: اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اطمینان نہیں۔ حالانکہ میں آسمان والے (اللہ تعالیٰ) کا امین ہوں۔ اور میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بربادی ہو، کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟“ (اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! عدل کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری بربادی ہو اگر میں نے ہی عدل نہ کیا تو اور کون کرے گا؟) وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟“ مگر آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔
خارجیوں کی علامات:۔
ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے۔ مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں گا۔
[مسلم، كتاب الزكوٰة، باب اعطاء المؤلفة القلوب و بيان الخوارج، بخاري، كتاب المغازي، باب بعث على ابن ابي طالب خالد بن وليد نيز كتاب استتابة المعاندين و المرتدين۔۔ الخ]
گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بد گمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بد گمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بد ظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔
[مسلم، كتاب الزكوٰة، باب اعطاء المؤلفة القلوب و بيان الخوارج، بخاري، كتاب المغازي، باب بعث على ابن ابي طالب خالد بن وليد نيز كتاب استتابة المعاندين و المرتدين۔۔ الخ]
گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بد گمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بد گمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بد ظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔
غل کے مختلف معنیٰ:۔
غل کا معنی در اصل ایسے خزانہ سے چوری کرنا ہے جو سب کی مشترکہ ملکیت ہو۔ لہٰذا اس کا معنی چوری بھی ہو سکتا ہے اور خیانت بھی۔ پھر غل کا لفظ دل میں کدورت، بغض و عناد کو چھپائے رکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے بعض علماء نے یہ معنی بھی کیا ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو معاف کر دینے کے بعد اس کے دل میں کچھ کدورت باقی رہ جائے۔
[157۔ 1]
[157۔ 1]
مشترکہ مال سے خیانت چوری اور مدعم خادم رسول کا قصہ:۔
مسلمانوں کے مشترکہ اموال سے کوئی چیز چرانا یا اس میں خیانت کرنا (جو کہ غل کا لغوی مفہوم ہے) کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے: ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں جنگ خیبر کی غنیمت میں سونا چاندی تو ملا نہیں بس اونٹ بکریاں اور کپڑے وغیرہ ہی تھے۔ ایک شخص رفاعہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام تحفۃً دیا تھا جس کا نام مدعم تھا۔ اس کے بعد آپ وادی القریٰ کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچنے پر مدعم آپ کو سواری سے اتار رہا تھا کہ اسے ایک تیر آ لگا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے دن اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ایک کملی چرائی تھی جو آگ کے شعلے بن کر اس کے گرد لپٹ رہی ہے۔ جب لوگوں نے آپ کا یہ ارشاد سنا تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کہ اگر تم انہیں داخل نہ کراتے تو قیامت کو یہ تسمے آگ بن کر تمہیں جلاتے۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الإیمان والنذور، باب ھل یدخل فی الإیمان والنذور الأرض والغنم]
[بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الإیمان والنذور، باب ھل یدخل فی الإیمان والنذور الأرض والغنم]