ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 161

وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾
اور کسی نبی کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے، اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کی، پھر ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
En
ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے ہر خیانت کرنے واﻻ خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہوگا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وه ﻇلم نہ کئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت161) ➊ {وَ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ …:} اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔
➋ جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے توسارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کر لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کر لیا کہ اس مال میں سے تمھارا حصہ تمھیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں؟ یاد رکھو! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی تقسیم میں نا انصافی کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھا لی جائے۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: طمع کے کام تو ادنیٰ نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہو سکتے (چہ جائیکہ سید الانبیاء سے)۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

161۔ 1 جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال دوسرے لپیٹ کرلے جائیں گے اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں سے تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا کیا تمہیں قائد غزوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں۔ یاد رکھو کہ ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں کیونکہ خیانت، نبوت کے منافی ہے۔ اگر نبی ہی خائن ہو تو پھر اس کی نبوت پر یقین کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

161۔ یہ نبی کے شایان شان نہیں [157] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [157۔ 1] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہو جائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہو گا
[157] حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک سرخ رنگ کی روئی دار چادر کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر کے دن اموال غنیمت میں سے گم ہو گئی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا، شاید چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے لیے رکھ لی ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ترمذي، ابواب التفسير] اور بعض روایات میں یہ ہے کہ یہ آیت بھی غزوہ احد ہی سے متعلق ہے۔ جب ابتداًء اس غزوہ میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور وہ غنیمت کا مال اکٹھا کرنے لگے تو حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کے ساتھیوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہمیں بھی اب درہ چھوڑ کر لوٹ مار حاصل کرنے میں شامل ہو جانا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اموال غنیمت میں ہمارا حصہ ہی نہ لگائیں۔ تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی سے ایسی نا انصافی یا خیانت ممکن ہی نہیں۔ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امین ہوتا ہے۔
بد ظنی سے اجتناب نہایت ضروری ہے:۔
چنانچہ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے یمن سے ایک رنگے ہوئے چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ جس سے ابھی مٹی بھی علیحدہ نہیں کی گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کو چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید الخیل اور علقمہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کہا: اس مال کے تو ہم ان لوگوں سے زیادہ حقدار تھے۔ آپ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اطمینان نہیں۔ حالانکہ میں آسمان والے (اللہ تعالیٰ) کا امین ہوں۔ اور میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔ ایک آدمی جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی، پیشانی باہر نکلی ہوئی، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا، اپنا تہبند اپنی پنڈلیوں سے اٹھاتے ہوئے کھڑا ہو کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈرئیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری بربادی ہو، کیا میں روئے زمین پر اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے کا مستحق نہیں ہوں؟“ (اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! عدل کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری بربادی ہو اگر میں نے ہی عدل نہ کیا تو اور کون کرے گا؟) وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولیدؓ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟“ مگر آپ نے اسے قتل کرنے کی اجازت نہ دی۔
خارجیوں کی علامات:۔
ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ جب وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کو مزے لے لے کر پڑھیں گے۔ مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں اس قوم کے زمانہ میں موجود رہا تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں گا۔
[مسلم، كتاب الزكوٰة، باب اعطاء المؤلفة القلوب و بيان الخوارج، بخاري، كتاب المغازي، باب بعث على ابن ابي طالب خالد بن وليد نيز كتاب استتابة المعاندين و المرتدين۔۔ الخ]
گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بد گمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بد گمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بد ظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔
غل کے مختلف معنیٰ:۔
غل کا معنی در اصل ایسے خزانہ سے چوری کرنا ہے جو سب کی مشترکہ ملکیت ہو۔ لہٰذا اس کا معنی چوری بھی ہو سکتا ہے اور خیانت بھی۔ پھر غل کا لفظ دل میں کدورت، بغض و عناد کو چھپائے رکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے بعض علماء نے یہ معنی بھی کیا ہے کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو معاف کر دینے کے بعد اس کے دل میں کچھ کدورت باقی رہ جائے۔
[157۔ 1]
مشترکہ مال سے خیانت چوری اور مدعم خادم رسول کا قصہ:۔
مسلمانوں کے مشترکہ اموال سے کوئی چیز چرانا یا اس میں خیانت کرنا (جو کہ غل کا لغوی مفہوم ہے) کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کا اندازہ اس حدیث سے لگائیے: ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں جنگ خیبر کی غنیمت میں سونا چاندی تو ملا نہیں بس اونٹ بکریاں اور کپڑے وغیرہ ہی تھے۔ ایک شخص رفاعہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام تحفۃً دیا تھا جس کا نام مدعم تھا۔ اس کے بعد آپ وادی القریٰ کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچنے پر مدعم آپ کو سواری سے اتار رہا تھا کہ اسے ایک تیر آ لگا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے دن اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ایک کملی چرائی تھی جو آگ کے شعلے بن کر اس کے گرد لپٹ رہی ہے۔ جب لوگوں نے آپ کا یہ ارشاد سنا تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کہ اگر تم انہیں داخل نہ کراتے تو قیامت کو یہ تسمے آگ بن کر تمہیں جلاتے۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الإیمان والنذور، باب ھل یدخل فی الإیمان والنذور الأرض والغنم]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔۔۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا ہے۔ اخلاق و اطوار کے لحاظ سے انھیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس کے مالک اور سب سے زیادہ طیب و طاہرہستیاں بنایا ہے اور انھیں ہر عیب سے پاک کیا ہے۔ انھیں اپنی رسالت کا محل اور اپنی حکمت کا خزانہ بنایا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (الانعام: 6؍124) اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا کون سا محل ہے اور وہ اپنی رسالت کسے عنایت فرمائے۔
ان میں سے کسی ایک رسول کے بارے میں بندے کا مجرد علم، تمام رسولوں کے ہر عیب سے محفوظ اور سلامت ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتا ہے اور انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کے دشمنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کے فاسد ہونے پر کسی دلیل کی حاجت نہیں، کیونکہ ان کی نبوت کی معرفت ان تمام اعتراضات کو دفع کرنے کو مستلزم ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب کے ساتھ ذکر کیا جو اس فعل کے وجود کو مانع ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے لیے چنا ہے اس کے بارے میں یہ ممتنع اور محال ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والوں کے لیے وعید سنائی ہے، فرمایا: ﴿وَمَنْ یَّغْلُ٘لْ یَ٘اْتِ بِمَا غَ٘لَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والا قیامت کے روز اس مال کو، خواہ وہ کوئی حیوان ہے یا مال و متاع وغیرہ، اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آئے گا اور اس مال کے ذریعے سے اسے عذاب دیا جائے گا۔
﴿ثُمَّ تُوَفّٰى كُ٘لُّ٘ نَ٘فْ٘سٍ مَّا كَسَبَتْ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کو اس کی خیانت کی مقدار کے مطابق اس کے گناہ کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ﴿وَهُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اور ان پر ظلم نہیں ہو گا یعنی ان کی برائیوں میں اضافہ اور ان کی نیکیوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔اس آیت کریمہ میں آپ اس حسن احتراز (مفہوم مخالف سے بچاؤ کے احسن پیرائے) پر غور کیجیے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے کہ وہ قیامت کے روز خیانت شدہ مال کے ساتھ آئے گا اور چونکہ وہ اس غنیمت میں خیانت کرنے والے کی پوری جزا کا ذکر کرنا چاہتا ہے اور اس میں صرف غنیمت میں خیانت کی سزا کے ذکر پر اقتصار کیا ہے۔ یوں اس آیت کے مفہوم مخالف سے یہ وہم لازم آتا ہے کہ دیگر عمل کرنے والوں کو ہو سکتا ہے کہ پورا پورا بدلہ نہ دیا جائے۔ اس لیے یہاں ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو غنیمت میں خیانت کرنے والوں اور دیگر عمل کرنے والوں، دونوں کے لیے جامع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

الغلول: هو الكتمان من الغنيمة والخيانة في كل مالٍ يتولاه الإنسان وهو محرَّم إجماعاً، بل هو من الكبائر كما تدل عليه هذه الآية الكريمة وغيرها من النصوص، فأخبر الله تعالى أنه ما ينبغي ولا يليق بنبي أن يغل، لأن الغلول ـ كما علمت ـ من أعظم الذنوب وشر العيوب.

وقد صان الله تعالى أنبياءه عن كل ما يدنسهم ويقدح فيهم، وجعلهم أفضل العالمين أخلاقاً وأطهرهم نفوساً، وأزكاهم وأطيبهم ونزههم عن كل عيب، وجعلهم محل رسالته ومعدن حكمته، {الله أعلم حيث يجعل رسالته}، فبمجرد علم العبد بالواحد منهم يجزم بسلامتهم من كل أمر يقدح فيهم، ولا يحتاج إلى دليل على ما قيل فيهم من أعدائهم، لأن معرفته بنبوتهم مستلزم لدفع ذلك، ولذلك أتى بصيغة يمتنع معها وجود الفعل منهم فقال: {وما كان لنبي أن يغل}؛ أي: يمتنع ذلك ويستحيل على من اختارهم الله لنبوته. ثم ذكر الوعيد على من غل فقال: {ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة}؛ أي: يأت به حامله على ظهره حيواناً كان أو متاعاً أو غير ذلك يعذب به يوم القيامة {ثم توفى كل نفس ما كسبت}؛ الغالُّ وغيره كلٌّ يوفَّى أجره ووزره على مقدار كسبه {وهم لا يظلمون}؛ أي: لا يزداد في سيئاتهم ولا يهضمون شيئاً من حسناتهم.

وتأمل حسن هذا الاحتراز في هذه الآية الكريمة لمَّا ذكر عقوبة الغالِّ وأنه يأتي يوم القيامة بما غله، ولمَّا أراد أن يذكر توفيته وجزاءه وكان اقتصاره على الغال يوهم بالمفهوم أن غيره من أنواع العاملين قد لا يوفون، أتى بلفظ عامٍّ جامع له ولغيره.