تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے توسارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کر لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کر لیا کہ اس مال میں سے تمھارا حصہ تمھیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں؟ یاد رکھو! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ”تقسیم میں نا انصافی“ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھا لی جائے۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”طمع کے کام تو ادنیٰ نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہو سکتے (چہ جائیکہ سید الانبیاء سے)۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم، كتاب الزكوٰة، باب اعطاء المؤلفة القلوب و بيان الخوارج، بخاري، كتاب المغازي، باب بعث على ابن ابي طالب خالد بن وليد نيز كتاب استتابة المعاندين و المرتدين۔۔ الخ]
گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنائم اور صدقات کو تقسیم کرنے کی کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم یا رفاہ عامہ کے لیے کچھ حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو نبی کے متعلق انہیں ہرگز کسی قسم کی بدگمانی نہ ہونا چاہئے۔ نبی سے متعلق ایسی بدگمانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے ہی مواقع پر مسلمانوں کے دلوں میں بد گمانی ڈالا کرتے تھے، ایسی بد گمانیوں سے قوم میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔ ملت کا شیرازہ بکھرتا ہے اور اس کا انجام بغاوت ہوتا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملہ میں بالخصوص اور عام حالات میں بھی بد ظنی سے اجتناب کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔
[157۔ 1]
[بخاری، کتاب المغازی، باب غزوہ خیبر، نیز کتاب الإیمان والنذور، باب ھل یدخل فی الإیمان والنذور الأرض والغنم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الغلول: هو الكتمان من الغنيمة والخيانة في كل مالٍ يتولاه الإنسان وهو محرَّم إجماعاً، بل هو من الكبائر كما تدل عليه هذه الآية الكريمة وغيرها من النصوص، فأخبر الله تعالى أنه ما ينبغي ولا يليق بنبي أن يغل، لأن الغلول ـ كما علمت ـ من أعظم الذنوب وشر العيوب.
وقد صان الله تعالى أنبياءه عن كل ما يدنسهم ويقدح فيهم، وجعلهم أفضل العالمين أخلاقاً وأطهرهم نفوساً، وأزكاهم وأطيبهم ونزههم عن كل عيب، وجعلهم محل رسالته ومعدن حكمته، {الله أعلم حيث يجعل رسالته}، فبمجرد علم العبد بالواحد منهم يجزم بسلامتهم من كل أمر يقدح فيهم، ولا يحتاج إلى دليل على ما قيل فيهم من أعدائهم، لأن معرفته بنبوتهم مستلزم لدفع ذلك، ولذلك أتى بصيغة يمتنع معها وجود الفعل منهم فقال: {وما كان لنبي أن يغل}؛ أي: يمتنع ذلك ويستحيل على من اختارهم الله لنبوته. ثم ذكر الوعيد على من غل فقال: {ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة}؛ أي: يأت به حامله على ظهره حيواناً كان أو متاعاً أو غير ذلك يعذب به يوم القيامة {ثم توفى كل نفس ما كسبت}؛ الغالُّ وغيره كلٌّ يوفَّى أجره ووزره على مقدار كسبه {وهم لا يظلمون}؛ أي: لا يزداد في سيئاتهم ولا يهضمون شيئاً من حسناتهم.
وتأمل حسن هذا الاحتراز في هذه الآية الكريمة لمَّا ذكر عقوبة الغالِّ وأنه يأتي يوم القيامة بما غله، ولمَّا أراد أن يذكر توفيته وجزاءه وكان اقتصاره على الغال يوهم بالمفهوم أن غيره من أنواع العاملين قد لا يوفون، أتى بلفظ عامٍّ جامع له ولغيره.