ہم عنقریب ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دیں گے، اس لیے کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ اس کو شریک بنایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ ظالموں کا برا ٹھکانا ہے۔
En
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان ﻇالموں کی بری جگہ ہے
En
151۔ عنقریب ہم کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب [137] ڈال دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسی [138] چیزوں کو شریک بنایا جن کے لیے اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری تھی۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ان ظالموں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے
[137] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے بعد جب مشرکین نے گھیرا ڈالا اور صحابہ کرامؓ نے نہایت جانبازی سے مشرکین کو منتشر کر دیا تو آپ نے ہمت کر کے نہایت دانشمندی اور حربی مہارت سے نقشہ جنگ میں تبدیلی کی اور ثابت قدمی کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ آپ کے اس اقدام سے فوراً جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ ابو سفیان نے آپ کو دیکھا تو فوج لے کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی۔ اوپر سے صحابہ نے پتھر برسائے، لہٰذا وہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس طرح شکست خوردہ مسلمان پھر سے برابری کی سطح پر آ گئے اور ابو سفیان کو ناکام واپس جانا پڑا۔
معہد خزاعی کا کردار:۔
چونکہ یہ جنگ فیصلہ کن نہ تھی اور اسی حال میں ابو سفیان واپس چلا گیا۔ لہٰذا آپ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو سفیان واپس مڑ کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر دے۔ لہٰذا آپ نے صحابہ کو تعاقب کا حکم دیا۔ چنانچہ زخم خوردہ اور غمزدہ مسلمانوں میں سے ستر آدمیوں کی ایک جماعت تعاقب کے لیے تیار ہو گئی اور وہ مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گمان بالکل درست نکلا۔ ابو سفیان جب مقام روحاء پر پہنچا تو اسے خیال آیا کہ کام تو ناتمام ہی رہ گیا۔ لہٰذا واپس مدینہ چل کر دوبارہ حملہ کرنا چاہئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوئی۔ قبیلہ خزاعہ کا رئیس معبد (یہ قبیلہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔ تاہم وہ مسلمانوں کا حلیف اور خیر خواہ ضرور تھا) مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر دلجوئی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اسے صورت حال معلوم ہوئی تو آپ سے مشورہ کے بعد وہ ابو سفیان کے پاس گیا۔ ابو سفیان نے اسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر جب اپنا واپس جا کر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو معبد کہنے لگا میں ادھر سے ہی آ رہا ہوں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ایک لشکر جرار لے کر آپ لوگوں کے تعاقب میں آ رہے ہیں اور اس لشکر میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اس معرکہ میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ابو سفیان نے جب یہ قصہ سنا تو اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اپنا ارادہ بدل دیا اور مکہ کی راہ لی۔
[138] مومن دلیر کیوں ہوتا ہے؟
مشرکوں کے مرعوب ہو جانے کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتلائی ہے کہ وہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو مخلوق ہیں اور اپنے بھی نفع و نقصان پر قادر نہیں تو دوسروں کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ﴿ضَعُفَالطَّالِبُوَالْمَطْلُوْبُ﴾ والا معاملہ ہوتا ہے۔ جبکہ مومن صرف ایک اللہ کا پرستار ہوتا ہے جو مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ بشرطیکہ مومن اس کی اطاعت کریں اور اسی پر توکل کریں۔ اللہ پر توکل اور تقدیر الٰہی کا عقیدہ اسے اللہ کے علاوہ باقی سب چیزوں سے بے خوف اور نڈر بنا دیتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔