ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ آل عمران (3) — آیت 122

اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں، حالانکہ اللہ ان دونوں کا دوست تھا اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
جب تمہاری دو جماعتیں پست ہمتی کا اراده کر چکی تھیں، اللہ تعالیٰ انکا ولی اور مددگار ہے۔ اور اسی کی پاک ذات پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

122۔ جب تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر آمادہ [111] ہو گئے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو تو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے
[111] جب عبد اللہ بن ابی تین سو ساتھیوں سمیت واپس چلا گیا تو انصار کے دو قبیلوں بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کمزوری واقع ہوئی اور کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر دل چھوڑنے لگے مگر چونکہ سچے مسلمان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار کے حق میں اتری۔ اگرچہ اس میں ہمارا عیب بیان کیا گیا ہے۔ تاہم ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی۔ کیونکہ اس میں ﴿اللّٰه وليهما﴾ (اور اللہ دونوں فرقوں کا مددگار تھا) کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔ [بخاري، كتاب التفسير]