ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 85

اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ قُلۡ رَّبِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡہُدٰی وَ مَنۡ ہُوَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۸۵﴾
بے شک جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور تجھے ایک عظیم الشان لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لانے والا ہے۔ کہہ میرا رب اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ہدایت لے کر آیا اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔ En
(اے پیغمبر) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں بازگشت کی جگہ لوٹا دے گا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لےکر آیا اور (اس کو بھی) جو صریح گمراہی میں ہے
En
جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وه آپ کو دوباره پہلی جگہ ﻻنے واﻻ ہے، کہہ دیجئے! کہ میرا رب اسے بھی بخوبی جانتا ہے جو ہدایت ﻻیا ہے اور اسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

85۔ اے نبی! بلا شبہ جس (اللہ) نے آپ پر قرآن (پر عمل اور اس کی تبلیغ) [115] فرض کیا ہے وہ آپ کو (بہترین) [116] انجام کو پہچانے والا ہے۔ آپ ان (کافروں) سے کہئے کہ: میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت [117] لے کر آیا ہے اور کون واضح گمراہی میں پڑا ہے۔
[115] یعنی قرآن لوگوں پر پڑھ کر سنانے، قرآن کی تعلیم دینے، اس پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو دکھانے اور اس کی اشاعت و تبلیغ کی ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے۔
[116] معاد کے مختلف مفہوم:۔
معاد کے معنی ہیں عود کرنے یا لوٹنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ چونکہ اس لفظ کے معنی میں کافی وسعت ہے۔ لہٰذا اس کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین سے معاد سے مراد فتح مکہ ہی لیا ہے ان کے قول کے مطابق یہ آیت مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے دوران نازل ہوئی تھی۔ اس وقت ہی آپ کو یہ خوشخبری سنا دی گئی تھی کہ آپ پھر اس شہر مکہ کو آنے والے ہیں اور یہی مفہوم ﴿وَاَنْتَ حِـۢلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ سے بھی متبادر ہوتا ہے اور بعض لوگوں نے معاد سے جنت اور اس سلسلہ میں اللہ نے آپ سے جو وعدہ کئے ہیں، یہ سب کچھ مراد لیا ہے اور بعض حضرات نے معاد سے مراد آپ کی زندگی کا آخری وقت لیا ہے۔ جبکہ پورے کا پورا جزیرۃ العرب اسلام کے زیر نگین آ گیا تھا۔ اور یہ برتری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی شخص کو بھی حاصل نہ ہوئی تھی کہ کم از کم سیاسی طور پر ہی سارا عرب اس کے زیر نگین ہو اور پورے جزیرۃ العرب کے محض سیاسی حکمران ہی نہیں تھے بلکہ اسلام کے بغیر کوئی بھی دین جزیرۃ العرب میں باقی نہیں رہ گیا تھا۔
[117] کفار مکہ جن جن القابات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تم آبائی دین کو چھوڑ کر ایک ہو گئے ہو اور یہ بات ایک دفعہ نہیں کئی بار وہ دہرا چکے تھے لہٰذا یہ اور ایسی ہی دیگر آیات آپ کی تسلی کے لئے مختلف اوقات میں اور مختلف سورتوں میں نازل ہوتی رہیں۔