تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر نہ اس کے لیے کوئی جماعت تھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کرنے والوں سے تھا۔
En
پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا
(آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وه خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا
En
81۔ پھر ہم نے قارون اور اس کے گھر کو (سب کچھ) زمین میں دھنسا دیا [110] تو اس کے حامیوں کی کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ خود بدلہ لے سکا۔
[110] قارون کا انجام:۔
کہتے ہیں کہ قارون جب موسیٰؑ کا مخالف بن کر فرعون سے جا ملا تو اس نے حضرت موسیٰؑ کو بدنام کرنے کے لئے ایک سازش تیار کی اور ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ پر زنا کی تہمت لگا دے۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰؑ نے اسے قسم دے کر سچ سچ بات بتلانے کو کہا تو اس نے بتلا دیا کہ اس نے قارون کے بہکانے سے یہ حرکت کی تھی اور اصل مجرم قارون تھا۔ حضرت موسیٰؑ کو اس کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا۔ آپ نے اس کے لئے بددعا کی۔ یہ اسی بددعا کا اثر تھا کہ قارون اپنے محل، اپنے خزانوں اور خادموں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ زمین کا اتنا ٹکڑا ہی سارے کا سارا عام سطح زمین سے بہت نیچے چلا گیا اور حب اس پر یہ قہر الٰہی نازل ہوا تو اس وقت نہ اس کے خزانے کچھ کام آسکے نہ اس کے خدام اور نہ ہی فرعون اور اس کی درباری اس کی مدد کو پہنچ سکے کہ وہ اسے زمین دھنس جانے سے بچا لیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔