67۔ البتہ جس شخص نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو امید ہے [91] کہ وہ فلاح پا سکے۔
[91] یہ شاہانہ انداز کلام ہے۔ یعنی اس دن وہ شخص ضرور فلاح پا لے گا جس نے خواہش نفس کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا۔ پھر اس کے بعد اعمال بھی صالح بجا لاتا رہا۔ گویا دوزخ کے لئے صرف توبہ اور ایمان لانے کا اقرار ہی کافی نہیں بلکہ اس ایمان کا عملی اظہار بھی ضروری ہے جو صرف نیک اعمال بجا لانے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔