ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 67

فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الۡمُفۡلِحِیۡنَ ﴿۶۷﴾
پس رہا وہ جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا، سو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ En
لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اُمید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو
En
ہاں جو شخص توبہ کرلے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وه نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ البتہ جس شخص نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو امید ہے [91] کہ وہ فلاح پا سکے۔
[91] یہ شاہانہ انداز کلام ہے۔ یعنی اس دن وہ شخص ضرور فلاح پا لے گا جس نے خواہش نفس کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا۔ پھر اس کے بعد اعمال بھی صالح بجا لاتا رہا۔ گویا دوزخ کے لئے صرف توبہ اور ایمان لانے کا اقرار ہی کافی نہیں بلکہ اس ایمان کا عملی اظہار بھی ضروری ہے جو صرف نیک اعمال بجا لانے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔