ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 57

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ نَّتَّبِعِ الۡہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا ؕ اَوَ لَمۡ نُمَکِّنۡ لَّہُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجۡبٰۤی اِلَیۡہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾
اور انھوں نے کہا اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کے لیے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
En
کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہوکر ہدایت کے تابع دار بن جائیں تو ہم تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں، کیا ہم نے انہیں امن وامان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ جہاں تمام چیزوں کے پھل کِھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

57۔ اور کافر لوگ آپ سے یہ کہتے ہیں: ”اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم تو اپنے ملک سے [78] اچک لئے جائیں گے؟ کیا ہم نے پرامن حرم کو [79] ان کا جائے قیام نہیں بنایا۔ جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں؟ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔
[78] یعنی عرب کے مشرک قبائل ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ان میں جو سیاسی اقتدار ہمیں حاصل ہے وہ بھی چھن جائے گا۔ اور اسی سیاسی اقتدار کی وجہ سے جو ہمارے تجارتی قافلے پرامن سفر کر سکتے ہیں۔ وہ بھی نہ کر سکیں گے۔ گویا اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان کر آپ پر ایمان لے لائیں تو ہماری سیاسی ساکھ بھی تباہ ہو جائے گی اور معاشی آسودگی بھی ختم ہو جائے گی اور یہ قبائل ہم پر ہمارا جینا بھی حرام کر دیں گے۔
[79] مشرکین مکہ کا یہ قول کہ اگر ہم ایمان لے آئیں تو ہمیں کوئی ٹھکانہ نہ ملے اور اس کا جواب:۔
کفار کی یہ تراشیدہ بات بھی ''خوئے بد را بہانہ بسیار'' والی بات تھی، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیاسی اور معاشی فوائد تمہیں صرف اس بنا پر حاصل ہو رہے ہیں کہ ہم نے اس سرزمین کو حرم بنا دیا ہے۔ یہاں عرب بھر کے تمام قبائل حج کرنے آتے ہیں۔ کعبہ پر تمہاری تولیت کی وجہ سے تمہارا بھی عزت و احترام کرتے ہیں۔ عرب بھر میں یہی ایک پرامن خطہ ہے۔ اور اسے اللہ نے ہی پرامن بنایا ہے ورنہ عرب کے لٹیرے اور ڈاکو تمہیں کیسے جینے دیتے تھے۔ پھر تمہارے تجارتی قافلے بھی اسی حرم کی تولیت کی وجہ سے محفوظ سفر کر لیتے ہیں اور تم لوگ تجارت سے آسودہ حال بنے ہوئے ہو وہ بھی اسی حرم کی بدولت ہے۔ تو کیا جس اللہ نے تمہارے مشرک ہونے کے باوجود حرم کی وجہ سے تمہیں فائدے بخشے ہوئے ہیں۔ کیا تمہارے ایمان لانے کے بعد وہ تمہارے یہ فائدے روک دے گا یا ان میں مزید اضافہ کر دے گا؟ نیز یہ بھی حرم ہی برکت ہے کہ اس بے آب و گیاہ علاقہ میں دنیا جہاں کے میوے اور پھل اور غلے اور دوسری ضرورت کی اشیاء پہنچ جاتے ہیں۔ اور اس کثرت سے پہنچتے ہیں کہ جہاں یہ اشیاء پیدا ہوتی ہیں وہاں بھی اس وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہوتیں۔ گویا مکہ اس لحاظ سے عالم تجارتی مرکز کی بھی حیثیت رکھتا ہے اگر تمہیں کفر کی حالت میں بھی یہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں تو اللہ کے فرمانبردار بن جانے کے بعد آخر تمہیں کیوں نہ ہوں گے۔