ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 56

اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾
بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ En
(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے
En
آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ (اے نبی)! جسے آپ چاہیں اسے ہدایت [76] نہیں دے سکتے، اللہ ہی ہے جو جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں [77] کو خوب جانتا ہے۔
[76] ہدایت کے دو مختلف مفہوم اور ابو طالب کی وفات کا قصہ:۔
ہدایت کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ کسی کافر کے قلب و دماغ میں ایسی تبدیلی آجائے کہ وہ ہدایت یا اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے یہ کام خالصتاً اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ سعید بن مسیب کے والد مسیب بن حزن کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہاں دیکھا کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ پہلے ہی وہاں بیٹھے ہیں۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا: ”چچا جان! اگر آپ ﴿لا الٰه الا الله﴾ کہہ لیں تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دلیل پیش کر سکوں گا“ اور ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے: ابو طالب! کیا تم عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ آخر ابو طالب نے آخری بات جو کہ وہ یہ تھی کہ میں عبد المطلب کے دین پر مرتا ہوں اور ﴿لا الٰه الا الله﴾ کہنا قبول نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہارے لئے دعا کرتا رہوں گا جب تک اس سے منع نہ کیا جاؤں“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ اور ابو طالب کے بارے میں یہ آیت: ﴿إنَّكَ لاَ تَهْدِيْ...﴾ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ ترمذی کی روایت کے مطابق ابو طالب نے آپ کو یہ جواب دیا اگر قریش مجھے یہ عار نہ دلائیں کہ موت کی گھبراہٹ نے اسے یہ کلمہ کہلوا دیا ہے تو بھتیجے! میں یہ کلمہ کہہ کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اب رہا ابو طالب کا اخروی انجام، جس نے مکی دور میں اپنے آخری دم تک آپ کی حمایت اور سرپرستی کی اور ہر مشکل سے مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیا، تو اس کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ حضرت عباس بن عبد المطلبؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ابو طالب کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر سب کی ناراضگی مول لے لی تھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوتے“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب شفاعۃ النبی لابی طالب]
2۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن شاید ان کو میری سفارش سے فائدہ پہنچے اور وہ ہلکی آگ میں رکھے جائیں جو ان کے ٹخنوں تک ہو اور ان کا بھیجا پکتا رہے“ [مسلم۔ حواله ايضاً]
3۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہنم کا سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا وہ (آگ کی) دو جوتیاں پہنے ہوں گے جس سے ان کا بھیجا کھول رہا ہو گا۔ (مسلم۔ حوالہ ایضاً) اور ہدایت کا دوسرا معنی یا دوسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ ان کی منزل مقصود تک رہنمائی کی جائے۔ ان معنوں میں آپ اور دیگر انبیاء بلکہ علمائے کرام بھی ہدایت کی راہ نہ بتلا سکتے ہیں اور پیغمبروں کی تو ذمہ داری ہی یہی ہوتی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [52:42] یعنی آپ یقیناً لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
[77] یعنی اللہ صرف ان لوگوں کو ایمان لانے کی توفیق دیتا ہے جو خود بھی ہدایت کے طلبگار ہوں۔ ایسے لوگوں کو وہ خوب جانتا ہے اور ان کی ہدایت کے اسباب بھی انھیں مہیا فرما دیتا ہے۔