اور نہ تو پہاڑ کے کنارے پر تھا جب ہم نے آواز دی اور لیکن تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
En
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں
En
46۔ نیز آپ طور کے کنارے پر بھی نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) [61] ندا کی تھی، لیکن یہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے (کہ اس نے آپ کو یہ سچی غیب کی خبریں دیں) تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی [62] ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ شاید وہ نصیحت قبول کریں۔
[61] یہ تینوں واقعات آپ کی نبوت پر دلیل ہیں اور سابقہ کتب کی تحریف کی تصحیح بھی:۔
گویا ان تین واقعات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کی صداقت کے طور پر پیش فرمایا۔ ایک وہ وقت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا کر کے انھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا اور امر رسالت تفویض کیا تھا۔ دوسرے مدین کے حالات کے تفصیل اور تیسرے وہ وقت جب موسیٰؑ راستہ بھول کر آگ لینے کی غرض سے آئے تھے۔ تو ہم نے خود انھیں پکار کر رسالت بھی عطا کی تھی اور ہم کلامی کا شرف بھی بخشا تھا۔ اور یہ واقعات آپ کی نبوت پر دلیل اس طرح ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ کہ آپ نے کسی کتاب سے پڑھ کر یہ حالات معلوم کر لئے ہوں اور لوگوں کو سنا دیا ہو۔ دوسرے یہ کہ آپ کا کوئی استاد ہی نہ تھا جس کے آگے آپ نے زانوئے تلمذ تہ کیا ہو اور اس نے آپ کو ان واقعات سے مطلع کر دیا ہو۔ اب تیسری صورت یہی باقی رہ جاتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہوں اور اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو ان حالات سے مطلع کر دیا ہو۔ پھر ان سابقہ کتب میں یا موجودہ میں انہی واقعات سے متعلق بے شمار جزوی اختلاف موجود تھے۔ اللہ نے جو حالات آپ کو وحی کے ذریعہ بتلائے یہ حالات اصل حقائق کے ٹھیک مطابق ہیں۔ [62] یعنی اہل حجاز کے لئے اس دو ہزار سال میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا ان لوگوں کا ان واقعات سے متعلق ذریعہ معلومات بسی وہی خبریں تھیں جو ادھر ادھر سے وہ سن لیتے تھے اور ان خبروں میں بھی کافی اختلافات تھے۔ اب ہم نے ان لوگوں میں آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ انھیں صحیح حالات کا علم ہو جائے۔ اور وہ امم سابقہ کے انجام سے متنبہ ہو کر سبق حاصل کریں۔ اور اللہ سے شرک اور سرکشی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آ جائیں تاکہ ان کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ مذکور امتوں کا ہوا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔