تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی، اس نے کہا بے شک میرا والد تجھے بلا رہا ہے، تاکہ تجھے اس کا بدلہ دے جو تو نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا تو اس نے کہا خوف نہ کر، تو ان ظالم لوگوں سے بچ نکلا ہے۔
En
(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو
اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم وحیا سے چلتی ہوئی آئی، کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وه کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ﻇالم قوم سے نجات پائی
En
25۔ اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک عورت شرم سے کانپتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”آپ نے ہماری بکریوں کو جو پانی پلایا ہے تو میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ آپ کو اس کا اس کا صلہ دے“ [34] پھر جب موسیٰ اس شخص (شعیب) کے پاس آئے اور انھیں اپنا سارا [35] حال سنایا تو اس نے کہا: ڈرو نہیں۔ تم نے ان ظالموں سے نجات پا لی“
[34] سیدنا شعیبؑ کا موسیٰ کو اپنے پاس بلانا:۔
یہ عورتیں دل ہی دل میں ان کی احسان مند تھیں کہ ایک اجنبی شخص نے ان سے کیسی بھلائی کی ہے۔ واپس جاتے ہوئے مڑ کر جو دیکھا تو موسیٰؑ ایک درخت کے سایہ میں آبیٹھے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی مسافر ہے۔ جس کے رہنے کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ موسیٰؑ کو ابھی سایہ میں بیٹھے اور اللہ سے دعا کئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی، کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی لجائی شرمائی منہ چھپائے اور گھونگٹ لٹکائے آپ کے پاس آ کر کہنے لگی کہ میرا والد آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے وہ آپ کو اس کا کچھ بدلہ دینا چاہتا ہے۔ گویا اللہ نے حضرت موسیٰؑ کی دعا کو بہت بلند شرف قبولیت بخشا اور جس خیر کو طلب کر رہے تھے اللہ نے غیر متوقع طور پر اس خبر کا فوراً سامان کر دیا۔ موسیٰؑفوراً اس لڑکی کے ساتھ ہو لئے۔ اسی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بھوک سے کس قدر بے تاب تھے۔ پھر وہ اس جگہ ٹھکانا بھی چاہتے تھے اور اپنا کوئی مونس غم خوار بھی انھیں درکار تھا۔ ورنہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کر دی ہو تو حضرت موسیٰؑ جیسے عالی ظرف انسان کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کام کا بدلہ دینے کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوں۔ آپ نے بھی اس لڑکی سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر میں آگے آگے چلوں گا تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔ البتہ مجھے راستہ کی رہنمائی کرتے جانا اور یہ آپ نے اس لئے کہا کہ اجنبی عورت پر عمداً نظر پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ چنانچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی انھیں لے کر اپنے گھر پہنچ گئی۔
[35] مدین میں سیدنا موسیٰؑ کے قیام کا بندوبست:۔
گھر پہنچ کر موسیٰؑ نے لڑکیوں کے باپ کو اپنی زندگی کے مختصراً اور واقعہ قتل اور وہاں سے فرار ہونے کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سنا دیا۔ اگرچہ لڑکیوں کے باپ کے متعلق یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ شعیبؑ تھے یا کوئی اور بزرگ تھے۔ لیکن اکثر مفسرین نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ وہ شعیبؑ تھے۔ بہرحال جو بزرگ بھی وہ تھے، نیک اور دیندار تھے وہ دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ ان میں اور موسیٰؑ کے عقائد و خیالات اور کردار میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ چنانچہ موسیٰؑ کے حالات سن کر انہوں نے تسلی دی کہ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس ظالم قوم کی حکومت کی حدود سے باہر آ چکے ہیں اور اب آپ میرے ہاں قیام فرمائیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر موسیٰ کے قیام و طعام کا مسئلہ حل فرما دیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔