تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”عورتوں نے پہچانا کہ چھاؤں پکڑتا ہے مسافر ہے، دور سے آیا ہوا تھکا، بھوکا، جا کر اپنے باپ سے کہا۔“ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”جب وہ دونوں باپ کے پاس جلدی واپس پہنچ گئیں تو اسے تعجب ہوا اور اس نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے احسان کا ذکر کیا، تو اس نے ان میں سے ایک کو انھیں بلانے کے لیے بھیجا۔“
➌ ” تو ان دونوں میں سے ایک بہت حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی۔“ سبحان اللہ! وہ خاتون کس قدر باحیا ہو گی جس کے بہت حیا کی شہادت رب العالمین نے دی ہے۔ {” تَمْشِيْ بِاسْتِحْيَاءٍ“} کے بجائے {” تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ “} اس لیے فرمایا گویا وہ حیا کی سواری پر سوار ہو کر چلی آ رہی تھی، حیا کی ہر صورت اس کی دسترس میں تھی۔ ابن ابی حاتم نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ «{ فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِيْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍ }» قَائِلَةٌ بِثَوْبِهَا عَلٰی وَجْهِهَا لَيْسَتْ بِسَلْفَعِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَّاجَةً، خَرَّاجَةً] [طبري: ۲۷۵۸۵۔ ابن أبي حاتم: ۱۶۸۳۲] ”وہ نہایت حیا کے ساتھ اپنا کپڑا چہرے پر ڈالے ہوئے آئی، بے باک عورتوں کی طرح نہیں جو بے دھڑک اور بے خوف چلی آتی ہوں، ہر جگہ جا گھستی ہر طرف نکل جاتی ہوں۔“ ابن کثیر نے فرمایا: {” هٰذَا إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ “} اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: {”وَ سَنَدُهُ صَحِيْحٌ۔“} ظاہر یہی ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے، مگر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ہاں حیا کا مطلب کیا تھا۔ جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں انھیں غور کرنا چاہیے کہ امیر المومنین چہرہ ڈھانکنے کو حیا قرار دے رہے ہیں۔
➍ { قَالَتْ اِنَّ اَبِيْ يَدْعُوْكَ:} اس خاتون کے بلانے کے انداز سے بھی اس کی کمال دانائی اور حیا ظاہر ہو رہی ہے۔ اس نے اپنی طرف سے ساتھ چلنے کو نہیں کہا، بلکہ باپ کی طرف سے پیغام دیا، کیونکہ ایک باحیا خاتون کو زیب ہی نہیں دیتا کہ کسی اجنبی مرد کو ساتھ چلنے کے لیے کہے۔
➎ { لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا:} یہ بات بھی اس نے حیا ہی کی وجہ سے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کو ساتھ لے جانے کی کوئی معقول وجہ ہونی چاہیے، اس کے بغیر شبہات پیدا ہو سکتے تھے، جن کا اس نے پہلے ہی سدباب کر دیا۔
➏ یہاں مفسرین نے ایک سوال اٹھایا ہے کہ انبیاء تو احسان کا بدلا نہیں لیتے، پھر موسیٰ علیہ السلام پانی پلانے کی اجرت لینے کے لیے کیوں چل پڑے؟ جواب اس کا ایک تو یہ ہے کہ یہ معروف معنوں میں اجرت نہیں، بلکہ احسان کا بدلا ہے، احسان کے بدلے میں کوئی احسان کرے تو اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ }» [الرحمٰن: ۶۰]”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلا بھی دیتے تھے، حدیث کے الفاظ ہیں: [كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَ يُثِيْبُ عَلَيْهَا] [بخاري، الھبۃ، باب المکافأۃ في الھبۃ: ۲۵۸۵] پھر موسیٰ علیہ السلام اس وقت سخت اضطرار کی حالت میں تھے، انھوں نے اس دعوت کو اپنی دعا کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا اور خواہ مخواہ کی خود داری سے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ اگر کسی کو اصرار ہو کہ یہ اجرت ہی تھی تو محنت کے بدلے میں مزدوری لینا موسیٰ علیہ السلام منع نہیں سمجھتے تھے، نہ ہی یہ منع ہے، خصوصاً جب کوئی بلا طلب مزدوری دے دے، جیسا کہ خضر علیہ السلام کے واقعہ میں ہے کہ جب انھوں نے گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: «{ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا }» [الکہف: ۷۷] ”اگر تو چاہتا تو ضرور اس پر کچھ اجرت لے لیتا۔“
➐ { فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ:} جب موسیٰ علیہ السلام اس بزرگ کے پاس آئے تو ظاہر ہے سب سے پہلی بات تعارف تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا نام و نسب، اپنی قوم پر فرعون کا ظلم و ستم، اپنی پیدائش اور پرورش کا قصہ اور ایک نادانستہ قتل پر فرعون کے ان کی جان کے درپے ہونے کا حال بیان کیا۔
➑ { قَالَ لَا تَخَفْ …:} اس بزرگ نے کھانا وغیرہ پیش کرنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کا خوف دور کیا، کیونکہ خوف میں مبتلا شخص بھوک کے مارے کھانا کھائے بھی تو اس میں اسے لذت نہیں ملتی، اس لیے سب سے پہلے اس نے کہا ڈرو مت، اس جگہ فرعون کی حکومت نہیں، تم ان ظالموں سے نجات پا چکے ہو۔ اس کے بعد نہایت عزت و احترام سے ان کی مہمان نوازی کی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کلیم اللہ علیہ السلام کو جو بھوکے پیاسے تن تنہا مسافر اور بے خرچ تھے یہ موقعہ غنیمت معلوم ہوا یہاں آئے۔ انہیں ایک بزرگ سمجھ کر ان کے سوال پر اپنا سارا واقعہ بلا کم و کاست سنایا۔ انہوں نے دلجوئی کی اور فرمایا اب کیا خوف ہے؟ ان ظالموں کے ہاتھ سے آپ نکل آئے۔ یہاں ان کی حکومت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ بزرگ شعیب علیہ السلام تھے جو مدین والوں کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہوئے تھے۔ یہ مشہور قول ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہ شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے کوئی کہتا ہے کہ قوم شعیب علیہ السلام کے ایک مومن مرد تھے۔ بعض کا قول ہے کہ شعیب علیہ السلام کا زمانہ تو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے بہت پہلے کا ہے۔
ان کا قول قرآن میں اپنی قوم سے یہ مروی ہے کہ «وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ» ۱؎ [11-ھود:89] یعنی ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ لوطیوں کی ہلاکت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔ اور یہ بھی بہت ظاہر ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کے درمیان کا زمانہ بہت لمبا زمانہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کا ہے جیسے اکثر مورخین کا قول ہے ہاں بعض لوگوں نے اس مشکل کا یہ جواب دیا ہے کہ شعیب علیہ السلام کی بڑی لمبی عمر ہوئی تھی۔ ان کا مقصد غالباً اس اعتراض سے بچنا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ثیرون شعیب علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ یثربی تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بات اس وقت ہوتی کہ جب اس بارے میں کوئی خبر مروی ہوتی اور ایسا ہے نہیں۔ ان کی دونوں صاحبزادیوں میں سے ایک نے باپ کی توجہ دلائی۔ یہ توجہ دلانے والی صاحبزادی وہی تھیں جو آپ علیہ السلام کو بلانے گئی تھیں۔ کہا کہ ”انہیں آپ ہماری بکریوں کی چرائی پر رکھ لیجئے کیونکہ وہ کام کرنے والا اچھا ہوتا ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔“ باپ نے بیٹی سے پوچھا ”تم نے یہ کیسے جان لیا کہ ان میں یہ دونوں وصف ہیں۔“ بچی نے جواب دیا کہ ”دس آدمی مل کر جس پتھر کو کنویں سے ہٹا سکتے تھے انہوں نے تنہا اس کو ہٹا دیا ان سے ان کی قوت کا اندازہ با آسانی ہوسکتا ہے۔ امانت داری کا علم مجھے اس طرح ہوا کہ جب میں انہیں لے کر آپ کے پاس آنے لگی تو اس لیے کہ راستے سے ناواقف تھے میں آگے ہولی انہوں نے کہاتم میرے پیچھے رہو اور جہاں راستہ بدلنا ہو اس طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ لونگا کہ مجھے اس راستے چلنا چاہیئے۔“
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تین شخص کی سی زیرکی، معاملہ فہی، دانائی اور دوربینی کسی اور میں نہیں پائی گئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانائی کہ جب انہوں نے اپنے بعد خلافت کے لیے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ یوسف علیہ السلام کے خریدنے والے مصری جنہوں نے بیک نظر یوسف علیہ السلام کو پہچان لیا اور جا کر اپنی بیوی سے فرمایا کہ انہیں اچھی طرح رکھو۔ اور اس بزرگ کی صاحبزادی جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی نسبت اپنے باپ سے سفارش کی کہ انہیں اپنے کام پر رکھ لیجئے۔“
یہ سنتے ہی اس بچی کے باپ نے فرمایا کہ ”اگر آپ علیہ السلام پسند کریں تو میں اس مہر پر ان دو بچیوں میں سے ایک کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیتا ہوں کہ آپ آٹھ سال تک ہماری بکریاں چرائیں۔ ان دونوں کا نام صفوراً اور اولیا تھا یا صفوراً اور شرفایا صفوررا ورلیا۔ اصحاب ابی حنیفہ رحمۃ اللہ نے اسی سے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی شخص اس طرح کی بیع کرے کہ ان دوغلاموں میں سے ایک کو ایک سوکے بدلے فروخت کرتا ہوں اور خریدار منظور کر لے تو یہ بیع ثابت اور صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کر کے فرمایا ہے کہ ”اگر کوئی کہے میں فلاں چیز کو نقد دس اور ادھار بیس پر بیچتا ہوں تو یہ بیع صحیح ہے اور خریدار کو اختیار ہے کہ دس پر نقد لے بیس پر ادھار لے۔“ وہ اس حدیث کا بھی یہی مطلب لے رہے ہیں جس میں ہے { جو شخص دو بیع ایک بیع میں کرے اس کے لیے کمی والی بیع ہے یا سود }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3461،قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن یہ مذہب غور طلب ہے جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اصحاب امام احمد رحمہ اللہ نے اس آیت سے استدلال کر کے کہا ہے کہ ”کھانے پینے اور کپڑے پر کسی کو مزدوری اور کام کاج پر لگا لینا درست ہے۔“ اس کی دلیل میں ابن ماجہ کی ایک حدیث بھی ہے جو اس بات میں ہے کہ { مزدور مقرر کرنا اس مزدوری پر کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا کرے گا اس میں حدیث لائیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس کی تلاوت کی جب موسیٰ علیہ السلام کے ذکر تک پہنچے تو فرمانے لگے { موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پیٹ کے بھرنے اور اپنی شرمگاہ کو بچانے کے لیے آٹھ سال یادس سال کے لیے اپنے آپ کو ملازم کر لیا } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2444،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس حدیث کا راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے جو ضعیف ہے۔ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن وہ سند بھی نظر سے خالی نہیں۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے برزگ کی اس شرط کو قبول کر لیا اور فرمایا کہ ”ہم تم میں یہ طے شدہ فیصلہ ہے مجھے اختیار ہو گا کہ خواہ دس سال پورے کروں یا آٹھ سال کے بعد چھوڑ دوں آٹھ سال کے بعد آپ کا کوئی حق مزدوری مجھ پر لازم نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے اس معاملہ پر گواہ کرتے ہیں اسی کی کارسازی کافی ہے۔“ تو گو دس سال پورا کرنا مباح ہے لیکن وہ فاضل چیز ہے ضروری نہیں ضروری آٹھ سال ہیں جیسے منٰی کے آخری دو دن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے اور جیسے کہ حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا جو بکثرت روزے رکھا کرتے تھے کہ { اگر تم سفر میں روزے رکھو تو تمہیں اختیار ہے اور اگر نہ رکھو تو تمہیں اختیار ہے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1121] باوجود یکہ دوسری دلیل سے رکھنا افضل ہے۔
حدیث فنون میں ہے کہ { سائل نصرانی تھا } لیکن بخاری میں جو ہے وہی اولیٰ ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن جریر میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے کون سی مدت پوری کی تھی تو جواب ملا کہ ان دونوں میں سے جو کامل اور مکمل مدت تھی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:27409:ضعیف]
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا جبرائیل علیہ السلام نے اور فرشتے سے یہاں تک کہ فرشتے نے اللہ سے۔ اللہ نے جواب دیا کہ ’ دونوں میں ہی پاک اور پوری مدت یعنی دس سال ‘ }۔
ایک حدیث میں ہے کہ { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال کی مدت کا پورا کرنا بتایا اور یہ بھی فرمایا کہ { اگر تجھ سے پوچھا جائے کہ کون سی لڑکی سے موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کیا تھا تو جواب دینا کہ دونوں میں جو چھوٹی تھیں } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2244:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت دراز کو پورا کرنا بتایا پھر فرمایا کہ { جب موسیٰ علیہ السلام، شعیب علیہ السلام سے رخصتی لے کر جانے لگے تو اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ اپنے والد سے کچھ بکریاں لے لو جن سے ہمارا گزارہ ہو جائے آپ نے اپنے والد سے سوال کیا جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں سے جتنی چت کبری بکریاں ہونگی سب تمہاری۔ موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کے پیٹ پر اپنی لکڑی پھیری تو ہر ایک کو دو دو تین تین بچے ہوئے اور سب کے سب چتکبرے جن کی نسل اب تک تلاش کرنے سے مل سکتی ہے } }۔ ۱؎ [مسند بزار:2246:ضعیف]
چنانچہ اور سند سے یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ سب بکریوں کے بچے اس سال ابلق ہوئے سوائے ایک بکری کے۔ جن سب کو آپ علیہ السلام لے گئے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يزل في هذه الحالة داعياً ربه متملِّقاً، وأما المرأتان؛ فذهبتا إلى أبيهما وأخبرتاه بما جرى، فأرسل أبوهما إحداهما إلى موسى، فجاءته {تمشي على استحياءٍ}، وهذا يدلُّ على كرم عنصرِها وخُلُقها الحسن؛ فإنَّ الحياء من الأخلاق الفاضلة، وخصوصاً في النساء، ويدلُّ على أنَّ موسى عليه السلام لم يكنْ فيما فعله من السقي لهما بمنزلة الأجير والخادم الذي لا يستحى منه عادة، وإنَّما هو عزيزُ النفس، رأتْ من حسنِ خُلُقِهِ ومكارم أخلاقه ما أوجبَ لها الحياء منه، {قالتْ}: له: {إنَّ أبي يدعوكَ لِيَجْزِيَكَ أجرَ ما سَقَيْتَ لنا}؛ أي: لا لمنٍّ عليك، بل أنت الذي ابتدأتنا بالإحسان، وإنَّما قصدُه أن يكافِئَك على إحسانِك، فأجابها موسى، {فلمَّا جاءه وقصَّ عليه القَصَصَ}: من ابتداء السبب الموجب لهربِهِ إلى أن وَصَلَ إليه، {قال}: له مسكِّناً رَوْعَهُ جابراً قَلْبَهُ: {لا تَخَفْ نجوتَ من القوم الظالمينَ}؛ أي: ليذهبْ خوفُك ورَوْعُك؛ فإنَّ الله نجَّاك منهم حيث وصلتَ إلى هذا المحلِّ الذي ليس لهم عليه سلطانٌ.