ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ القصص (28) — آیت 13

فَرَدَدۡنٰہُ اِلٰۤی اُمِّہٖ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ وَ لِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
تو ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے
En
پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزرده خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالی کا وعده سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ چنانچہ (اس طرح) ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ ہی کی طرف لوٹا دیا تاکہ وہ [19] اپنی آنکھ ٹھنڈی کرے اور غمزدہ نہ رہے اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اکثر لوگ [20] یہ بات نہیں جانتے۔
[19] سیدنا موسیٰؑ کی اپنی ماں کے پاس واپسی:۔
ام موسیٰ کو وہاں محل میں رہ کر بچہ کی پرورش کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر پیش کر دیا کہ گھر کی دیکھ بھال بھی اس کے ذمہ ہے۔ لہٰذا یہ یہاں رہ کر یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتی۔ البتہ یہ کر سکتی ہوں کہ اس بچے کو اپنے ہمراہ لے جاؤں اور اس کی پرورش کروں۔ چنانچہ آل فرعون نے ام موسیٰ کا یہ عذر قبول کر لیا وہ بچہ کو اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ صرف آغوش مادری میں ہی نہ پہنچے بلکہ اپنے گھر میں ہی واپس آ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام موسیٰ سے جو وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانہ سے جو ماں کو معاوضہ ملتا رہا وہ اللہ تعالیٰ کا زائد انعام تھا۔
[20] آپ کی ذات پر دیندارانہ ماحول کا اثر:۔
یعنی اللہ کے کئے ہوئے وعدے بہرحال پورے ہوکے رہتے ہیں۔ خواہ ان کے امکانات بالکل معدوم نظر آرہے ہوں۔ یا یہ کہ اگر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں اور اکثر لوگ یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کون کون سے راستے اور کون کون سے مراحل طے کرتے ہوئے پورے ہوتے ہیں۔