ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 13

فَرَدَدۡنٰہُ اِلٰۤی اُمِّہٖ کَیۡ تَقَرَّ عَیۡنُہَا وَ لَا تَحۡزَنَ وَ لِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
تو ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ غم نہ کرے اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن یہ اکثر نہیں جانتے
En
پس ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزرده خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالی کا وعده سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) ➊ { فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ:} یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی ماں سے جو وعدہ کیا تھا کہ اسے تمھارے پاس واپس لائیں گے، اتنی دیر ہی میں پورا کر دیا جتنی دیر کوئی بچہ ماں کے دودھ کے بغیر گزار سکتا ہے۔
➋ { كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا: قَرَّ يَقِرُّ} (ض، ع) {قُرَّةً وَ قُرُوْرًا} آنکھ کا ٹھنڈا ہونا۔ تاکہ اس کی آنکھ جو بیٹے کی جدائی میں سکون سے ناآشنا تھی، آنسو بہا بہا کر اور بیدار رہ کر سرخ اور گرم ہو چکی تھی، بیٹے کے واپس ملنے، اسے دودھ پلانے اور اپنے پاس رکھنے سے ٹھنڈی اور پرسکون ہو جائے اور آرام کی نیند سو جائے اور غم زدہ نہ رہے۔
نکتہ: اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اعضا کا درجہ حرارت مختلف رکھا ہے، اس کی جلد کا درجہ حرارت عموماً 37 ڈگری ہوتا ہے۔ جگر کو کام کرنے کے لیے 40 ڈگری کے قریب درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ آنکھ کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 9 ڈگری ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہو جائے تو آنکھ پگھل کر بہ جائے، اس لیے دل کی خوشی کے لیے آنکھ کی ٹھنڈک کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ (شعراوی)
➌ قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے دودھ پلانے والی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے۔ خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی۔ اس کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ اپنے گھر لے گئیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو واپس لانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانے سے ماں کو جو وظیفہ ملتا رہا وہ اس کے علاوہ تھا۔
➍ اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَثَلُ الَّذِيْ يَعْمَلُ وَ يَحْتَسِبُ فِيْ صِنْعَةِ الْخَيْرِ كَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰی تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَهَا] وہ شخص جو کام کرے اور اپنے کام میں نیکی کی نیت رکھے، اس کی مثال موسیٰ کی والدہ کی سی ہے، جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔ مگر ان الفاظ کے ساتھ یہ روایت حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے، البتہ ایک مرسل روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے: [مَثَلُ الَّذِيْنَ يَغْزُوْنَ مِنْ أُمَّتِيْ وَ يَأْخُذُوْنَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ بِهِ عَلٰی عَدُوِّهِمْ كَمَثَلِ أُمِّ مُوْسٰي تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَ تَأْخُذُ أَجْرَهَا] میری امت کے جو لوگ جنگ کرتے ہیں اور وظیفہ لیتے ہیں، جس کے ساتھ دشمن کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال ام موسیٰ کی سی ہے جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اپنی مزدوری وصول کرتی ہے۔ یہ روایت مرسل (جو ضعیف کی ایک قسم ہے) ہونے کے علاوہ سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے { سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني (ح: ۴۵۰۰)} اس حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے اگرچہ فی نفسہ درست ہے، جو اپنی طرف سے بطور مثال بیان کی جا سکتی ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے وہی بات لگانے کی اجازت ہے جو آپ سے ثابت ہو، ورنہ { مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ } کی وعید کا مصداق بننے کا خطرہ ہے۔
➎ { وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} یعنی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا، تاکہ اسے پہلے وحی کے ذریعے سے سن کر اللہ کا وعدہ حق ہونے کا علم تھا، تو اب آنکھوں سے دیکھ کر اس کے حق ہونے کا علم ہو جائے۔ پہلے اگر علم الیقین تھا تو اب عین الیقین ہو جائے۔ (بقاعی)
➏ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جوں ہی کسی کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے، اللہ تعالیٰ سے بدظن ہو جاتے ہیں اور انھیں اللہ کے وعدے پر یقین نہیں رہتا، حالانکہ اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ اسباب کو کچھ اس طرح پھیر کر لاتا ہے جو انسانی سمجھ سے باہر ہوتا ہے اور جس چیز کا گمان بھی نہیں ہوتا وہ آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ پھر بعض اوقات آدمی ایک چیز کو برا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہے جب کہ وہ اس کے حق میں بری ہوتی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۶) اور نساء (۱۹)۔
ہاں مشو نومید چوں واقف نہ ای ز اسرارِ غیب
باشد اندر پردہ بازی ہائے پنہاں غم مخور
خبردار! ناامید نہ ہو، کیونکہ تو غیب کے اسرار سے واقف نہیں۔ پردے کے اندر کئی پوشیدہ کھیل ہو رہے ہوتے ہیں، غم مت کر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13-1جب حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی والدہ کا دودھ پی لیا، تو فرعون نے والدہ موسیٰ سے محل میں رہنے کی استداعا کی تاکہ بچے کو صحیح پرورش اور نہگداشت ہو سکے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ بالآخر یہ طے پایا کہ بچے کو وہ اپنے ساتھ ہی گھر میں لے جائیں اور وہیں اس کی پرورش کریں اور اس کی اجرت انھیں شاہی خزانے سے دی جائے گی، سبحان اللہ! اللہ کی قدرت کے کیا کہنے، دودھ اپنے بچے کو پلائیں اور تنخواہ فرعون سے وصول کریں، رب نے موسیٰ ؑ کو واپس لوٹانے کا وعدہ کس احسن طریقے سے پورا فرمایا۔ ایک مرسل روایت میں ہے۔ اس کاریگر کی مثال جو اپنی بنائی ہوئی چیز میں ثواب اور خیر کی نیت بھی رکھتا ہے، موسیٰ ؑ کی ماں کی طرح ہے جو اپنے ہی بچے کو دودھ پلاتی ہے اور اس کی اجرت بھی وصول کرتی ہے۔ (مراسیل ابی داؤد) 13-3یعنی بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے انجام کی حقیقت سے اکثر لوگ بےعلم ہوتے ہیں لیکن اللہ کو اس کے حسن انجام کا علم ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا (ہو سکتا ہے جس چیز کو تم برا سمجھو، اس میں تمہارے لئے خیر ہو اور جس چیز کو تم پسند کرو، اس میں تمہارے لئے شر کا پہلو ہو) (كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 2۔ البقرۃ:216) دوسرے مقام پر فرمایا (ہو سکتا ہے تم کسی چیز کو برا سمجھو، اور اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر پیدا فرما دے) (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا) 4۔ النساء:19) اس لئے انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی پسند و ناپسند سے قطع نظر ہر معاملے میں اللہ اور رسول کے احکام کی پابندی کرلے کہ اسی میں اس کے لئے خیر اور حسن انجام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ چنانچہ (اس طرح) ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ ہی کی طرف لوٹا دیا تاکہ وہ [19] اپنی آنکھ ٹھنڈی کرے اور غمزدہ نہ رہے اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اکثر لوگ [20] یہ بات نہیں جانتے۔
[19] سیدنا موسیٰؑ کی اپنی ماں کے پاس واپسی:۔
ام موسیٰ کو وہاں محل میں رہ کر بچہ کی پرورش کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر پیش کر دیا کہ گھر کی دیکھ بھال بھی اس کے ذمہ ہے۔ لہٰذا یہ یہاں رہ کر یہ خدمت سرانجام نہیں دے سکتی۔ البتہ یہ کر سکتی ہوں کہ اس بچے کو اپنے ہمراہ لے جاؤں اور اس کی پرورش کروں۔ چنانچہ آل فرعون نے ام موسیٰ کا یہ عذر قبول کر لیا وہ بچہ کو اپنے گھر لے آئی۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ صرف آغوش مادری میں ہی نہ پہنچے بلکہ اپنے گھر میں ہی واپس آ گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ام موسیٰ سے جو وعدہ کیا تھا۔ وہ بھی پورا ہوا اور شاہی خزانہ سے جو ماں کو معاوضہ ملتا رہا وہ اللہ تعالیٰ کا زائد انعام تھا۔
[20] آپ کی ذات پر دیندارانہ ماحول کا اثر:۔
یعنی اللہ کے کئے ہوئے وعدے بہرحال پورے ہوکے رہتے ہیں۔ خواہ ان کے امکانات بالکل معدوم نظر آرہے ہوں۔ یا یہ کہ اگر لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ظاہری اسباب کے علاوہ کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں اور اکثر لوگ یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کون کون سے راستے اور کون کون سے مراحل طے کرتے ہوئے پورے ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰ علیہ السلام کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔
﴿ فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ پس ہم نے ان (موسیٰ علیہ السلام) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَیْؔ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں۔ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔
پس موسیٰ علیہ السلام آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی رضاعی ماں ہیں، لہٰذا موسیٰ علیہ السلام کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰ علیہ السلام ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰ علیہ السلام اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما قالت لهم أختُه تلكَ المقالَة المشتملةَ على الترغيب في أهل هذا البيت بتمام حفظِهِ وكفالتِهِ والنُّصح له؛ بادروا إلى إجابتها، فأعْلَمَتْهم ودلَّتْهم على أهل هذا البيت. {فَرَدَدْناه إلى أمِّه}: كما وَعَدْناها بذلك؛ {كي تَقَرَّ عينُها ولا تَحْزَنَ}: بحيث إنَّه تربَّى عندَها على وجهٍ تكون فيه آمنةً مطمئنةً تفرحُ به وتأخذُ الأجرة الكثيرة على ذلك، {ولِتَعْلَمَ أنَّ وعدَ الله حقٌّ}: فأريْناها بعضَ ما وَعَدْناها به عياناً ليطمئنَّ بذلك قلبُها ويزدادَ إيمانُها، ولِتَعْلَمَ أنَّه سيحصُلُ وعدُ الله في حفظِهِ ورسالتِهِ. {ولكنَّ أكثرهم لا يعلمونَ}: فإذا رأوا السبب متشوِّشاً؛ شوَّشَ ذلك إيمانَهم؛ لعدم علمهم الكامل أنَّ الله تعالى يجعلُ المحنَ والعقباتِ الشاقَّةَ بين يدي الأمور العاليةِ والمطالبِ الفاضلة.

فاستمرَّ موسى عليه الصلاة والسلام عند آلِ فرعونَ يتربَّى في سلطانِهِم ويركبُ مراكِبَهم ويَلْبَسُ ملابِسَهم، وأمُّه بذلك مطمئنةٌ، قد استقرَّ أنَّها أمُّه من الرضاع، ولم يُستنكرْ ملازمتُه إيَّاها و [حنوُّها عليه]. وتأمل هذا اللطف وصيانة نبيِّه موسى من الكذب في منطقِهِ وتيسيرِ الأمر الذي صار به التعلُّق بينه وبينها، الذي بانَ للناس هو الرضاعُ الذي بسببه يسمِّيها أمًّا، فكان الكلامُ الكثيرُ منه ومن غيرِهِ في ذلك كلِّه صدقاً وحقًّا.