اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، گھبرا جائے گا مگر جسے اللہ نے چاہا اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہوکر آئیں گے۔
En
اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے
جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے، اور سارے کے سارے عاجز وپست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہوں گے
En
87۔ اور جس دن صور پھونکا [92] جائے گا تو جو کوئی بھی آسمانوں میں یا زمین میں ہو گا سب گھبرا اٹھیں گے بجز ان کے جنہیں اللہ اس ہول [93] سے بچانا چاہے گا۔ اور یہ سب حقیر [94] بن کر اللہ کے حضور پیش ہو جائیں گے۔
[92] معتبر روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نفخہ صور دوبارہ ہو گا۔ پہلی بار جب حضرت اسرافیل صور میں پھونکیں گے تو قیامت برپا ہو جائے گی اور تمام دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی۔ یہ نظام کائنات بھی درہم برہم ہو جائے گا اور دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مزید تفصیل سورۃ انعام کی آیت نمبر 73 کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔ [93] یہ ایماندار لوگ ہوں گے یا فرشتے مثلاً اسرائیل، میکائیل، جبرئیل وغیرہم۔ کیونکہ یہ نفخہ صور ان کی توقع کے مطابق ہو گا۔ اس لئے ان پر وہ دہشت طاری نہیں ہو گی جو منکرین حق پر ہو گی۔ یہ غالباً نفخہ ثانی کی بات ہے۔ کیونکہ نفخہ اول کے وقت ایماندار لوگ نہایت قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ میں یہ وضاحت آ چکی ہے کہ قیامت بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ اور نیک لوگ قیام قیامت سے پیشتر اٹھا لئے جائیں گے۔
[94] ﴿دَخَرَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿دَخَرَ﴾ کے معنی میں عاجزی، ذلت اور حقارت تین باتیں پائی جاتی ہیں اور داخر بمعنی عقل و ہوش کی کم مائیگی کی بنا پر نکو بن کر ذلت کی اطاعت قبول کر لینے والا ہے۔ یعنی ساری کی ساری مخلوق عاجز اور حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہو جائے گی۔ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے ہوئے یوں پیش ہوں گے۔ جیسے کوئی قصور وار غلام اپنے آقا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔