6۔ اور (اے نبی) آپ یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا [6] رہے ہیں۔
[6] یعنی یہ قرآن ایسی ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو تمام لوگوں کے احوال سے پوری طرح با خبر ہے۔ اس کی نظروں میں سب انسان بحیثیت انسان ایک جیسے ہیں۔ جو ہر ایک کے حقوق و فرائض اپنے اسی وسیع علم کی بنا پر مقرر کرتی ہے۔ پھر وہ حکیم بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم میں کچھ نہ کچھ حکمتیں مضمر ہوتی ہیں اور اس کے احکام بندوں ہی کی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔