ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 6

وَ اِنَّکَ لَتُلَقَّی الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۶﴾
اور بلاشبہ یقینا تجھے قرآن ایک کمال حکمت والے،سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔ En
اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے
En
بیشک آپ کو اللہ حکیم وعلیم کی طرف سے قرآن سکھایا جارہا ہے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ …: مِنْ لَّدُنْ } (کے پاس سے) کے لفظ سے قرآن مجید کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدّتِ اتصال بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے عطا کر رہا ہے۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں کہ جس کا علم ناقص ہو، یا جو معاملات کی حکمت سے نا آشنا ہو، بلکہ یہ ایک کمال حکمت والے ہر چیز کا علم رکھنے والے نے اپنے پاس سے تجھے عطا کیا ہے، جس کا ہر کام اور ہر حکم حکمت سے بھرا ہوا ہے اور جسے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اس لیے نہ اس کی کوئی خبر غلط ہوتی ہے اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی غلطی ہوتی ہے۔
➋ { حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ:} دونوں صفات کا گزشتہ آیات سے بھی تعلق ہے اور آئندہ انبیاء کے قصوں کے ساتھ بھی کہ ان انبیاء کی بعثت، ان پر گزرنے والے واقعات اور آپ کی طرف ان کی صحیح ترین صورت میں وحی اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا اظہار ہے۔ یہ دونوں الفاظ مبالغہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کو نکرہ لانے سے مزید مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ایک انوکھے کمال حکمت و علم رکھنے والے کے پاس سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اور (اے نبی) آپ یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا [6] رہے ہیں۔
[6] یعنی یہ قرآن ایسی ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو تمام لوگوں کے احوال سے پوری طرح با خبر ہے۔ اس کی نظروں میں سب انسان بحیثیت انسان ایک جیسے ہیں۔ جو ہر ایک کے حقوق و فرائض اپنے اسی وسیع علم کی بنا پر مقرر کرتی ہے۔ پھر وہ حکیم بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم میں کچھ نہ کچھ حکمتیں مضمر ہوتی ہیں اور اس کے احکام بندوں ہی کی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّكَ لَ٘تُ٘لَ٘قَّى الْ٘قُ٘رْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں، ﴿ حَكِیْمٍ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِیْمٍ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّكَ لَتُلَقَّى القرآنَ مِن لَدُنْ حكيم [عليم] }؛ أي: وإنَّ هذا القرآن الذي ينزِلُ عليك، وتتلقَّنُهُ ينزل من عند حكيم، يَضَعُ الأشياءَ مواضعَها، وينزِلُها منازلها، [خبير] بأسرار الأحوال وبواطنها كظواهرها. وإذا كان من عند حكيم [خبير]؛ علم أنه كلَّه حكمةٌ ومصالحُ للعباد من الذي أعلم بمصالحهم منهم.