ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾
تو وہ اس کی بات سے ہنستا ہوا مسکرایا اور اس نے کہا اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں، جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ En
تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما
En
اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا ﻻؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ سلیمان چیونٹی کی اس بات پر مسکرا دیئے [21] اور دعا کی: ”اے میرے پروردگار مجھے توفیق [22] دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور اس بات کی بھی کہ میں ایسے اچھے عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل کر“
[21] چیونٹی کی فریاد اور سیدنا سلیمانؑ کی دعائے استسقاء :۔
آپ چیونٹی کی یہ بات سمجھ کر، فرط سرور و انبساط سے، ہنس دیئے اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ پھر دست بدعا ہو کر فرمایا: پروردگار! مجھے ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ لوگوں کے ہمراہ نماز استسقاء کے لئے ایک میدان کی طرف نکلے۔ وہاں ایک چیونٹی کو دیکھا جو چت لیٹ کر اور اپنے پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے اللہ سے دعا کر رہا تھی کہ یا اللہ! میں بھی تیری مخلوق ہوں اگر تو کھانے پینے کو نہ دے گا تو میں کیسے زندہ رہ سکتی ہوں یا ہمیں کھانے کو دے یا مار ڈال۔ حضرت سلیمانؑ نے چیونٹی کی یہ دعا سن کر لوگوں سے فرمایا: اب اپنے اپنے گھروں میں لوٹ جاؤ۔ ایک چیونٹی نے تمہارا کام پورا کر دیا۔ اب ان شاء اللہ بارش ہو گی۔ [دارقطنی بحوالہ مشکوۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الاستسقاء فصل ثالث]
[22] ﴿وَزَعَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
یہاں ﴿أَوْزِعْنِي کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿وَزَعَ کا لغوی معنی روکتا یا روکے رکھتا ہے۔ اور ﴿وزع﴾الجیش یعنی فوج کو ترتیب وار صفوں میں رکھنا ہے۔ حضرت سلیمانؑ دعا یہ فرما رہے ہیں کہ جس قدر تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعامات کی بارش کی ہے۔ اس پر کہیں میرا نفس بے قابو اور بے لگام ہو کر سرکشی کی راہ نہ اختیار کر لے۔ جیسا کہ عموماً اللہ کی طرف سے انعامات کی فراوانی اکثر لوگوں کے ذہنوں کو بگاڑ دیتی ہے۔ مجھے ایسے لوگوں اور ایسی ذہنیت سے روکے رکھنا اور اس بات کی توفیق عطا فرما کہ میں ان نعمتوں پر تیرا شکر گزار بندہ بنوں اور وہی کام کروں جو تجھے پسند ہیں۔
چیونٹی کی بات کرنے کی تاویل؟
عقل پرستوں نے اس وادی نمل کے قصہ میں بھی اپنی عقل کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی نمل فلاں مقام پر ایک بستی کا نام ہے اور نمل ایک قبیلہ کا نام تھا۔ اس کے افراد بھی نمل کہلاتے تھے۔ سلیمانؑ کا لاؤ لشکر دیکھ کر ایک نملہ نے دوسرے نملہ سے یہ بات کہی تھی کہ اس تاویل یا تحریف میں جتنا وزن ہو سکتا ہے۔ وہ ان آیات کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھ لیجئے کہ آیا اس تاویل میں کچھ معقولیت نظر آتی ہے۔