کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
49۔ فرعون بول اٹھا: ”تم موسیٰ کی بات مان گئے پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا۔ یقیناً یہ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اس کا انجام تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی [37] چڑھا دوں گا۔
[37] فرعون کی شکست اور جادوگروں کو سزا دینے کا اعلان :۔
فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا اقرار کر لیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہو گیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہٰذا اب وہ تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہی ساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادوگر تو پہلے ہی موسیٰؑ کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وہ ان کا استاد تھا اور یہ اس کے چیلے تھے۔ ان دونوں نے مل کر مجھے اس انجام تک پہنچایا ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ شکست کے بعد جادوگروں نے مجھے پوچھا تک نہیں نہ مجھ سے مشورہ کیا۔ جادوگر میرے تھے اور مل گئے (موسیٰؑ) سے اب ان کی اس فریب کاری کی میں انہیں پوری پوری سزا دوں گا اور ایسی سزا دوں گا جس سے باقی لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی جرأت تک نہ ہو سکے۔ فرعون دراصل اس اعلان سے دوہرا فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ پہلے بھی اپنے طور پر یہ سمجھ چکا کہ موسیٰؑ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ لیکن دوسروں کو الو بنانے کی خاطر انہیں یہ یقین دلا رہا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی ہارون اللہ کے رسول نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں۔ ہر مقابلہ میں شکست کے بعد عوام الناس میں پھر اسی تاثر کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی اور دوسرے جادوگروں کو سولی چڑھانے کا اعلان کر کے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا تاکہ آئندہ کوئی شخص ان پر ایمان لانے کی جرأت نہ کر سکے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔