تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہو گئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ علیہ السلام کی مان لی؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ہارجانے بلکہ پھر مسلمان ہو جانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بے ایمانی اور دغا بازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے؟
عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیا کہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكنْ أبى فرعونُ إلاَّ عتوًّا وضلالاً وتمادياً في غيِّه وعناداً، فقال للسحرة: {آمنتُم له قبلَ أنْ آذَنَ لكم} يتعجَّبُ ويُعَجِّبُ قومَه من جراءتهم عليه وإقدامِهِم على الإيمانِ من غير إذنِهِ ومؤامرتِهِ، {إنَّه لَكبيرُكُم الذي علَّمَكُمُ السحرَ}: هذا؛ وهو الذي جمع السحرةَ، وملؤه الذين أشاروا عليه بجمعِهِم من مدائنِهِم، وقد علموا أنَّهم ما اجتمعوا بموسى ولا رأوه قبل ذلك، وأنهم جاؤوا من السحر بما يحيِّرُ الناظرين ويُهيلُهم، ومع ذلك؛ فراجَ عليهم هذا القولُ الذي هم بأنفُسِهم وقفوا على بطلانِهِ؛ فلا يُسْتَنْكَرُ على أهل هذه العقول أن لا يُؤْمنوا بالحقِّ الواضح والآيات الباهرةِ؛ لأنَّهم لو قال لهم فرعون عن أيِّ شيءٍ كان، أنَّه على خلاف حقيقته؛ صدَّقوه. ثم توعَّد السحرةَ، فقال: {لأُقَطِّعَنَّ أيْدِيَكُم وأرْجُلَكُم من خِلافٍ}؛ أي: اليد اليمنى والرجل اليسرى؛ كما يفعل بالمُفْسِدِ في الأرض، {ولأصَلِّبَنَّكُم أجمعينَ}: لتختزوا وتذلُّوا، فقال السحرةُ حين وجدوا حلاوةَ الإيمان وذاقوا لَذَّتَه: {لا ضَيْرَ}؛ أي: لا نُبالي بما توعَّدْتَنا به، {إنَّا إلى ربِّنا مُنْقَلِبونَ. إنَّا نطمعُ أن يَغْفِرَ لنا ربُّنا خطايانا}: من الكفر والسحر وغيرهما {أنْ كُنَّا أولَ المؤمنينَ}: بموسى من هؤلاء الجنود. فثبَّتَهم اللهُ وصبَّرهم؛ فيُحْتَمَلُ أنَّ فرعون فعل [بهم] ما توعدهم به لسلطانه واقتداره إذ ذاك، ويحتمل أنَّ الله منعه منهم.