ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 49

قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَہٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَکُمۡ ۚ اِنَّہٗ لَکَبِیۡرُکُمُ الَّذِیۡ عَلَّمَکُمُ السِّحۡرَ ۚ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۬ؕ لَاُقَطِّعَنَّ اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَرۡجُلَکُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۚ۴۹﴾
کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔ En
فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
En
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 48 میں تا آیت 50 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49-1فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعے وہ فتح و غلبہ کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غور و فکر سے کام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اور تمہارا استاد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا) 7۔ الاعراف:123)۔ 49-2الٹے طور پر ہاتھ پاؤں کاٹنے کا مطلب دایاں ہاتھ اور بایاں پیر یا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر ہے۔ اس پر سولی مستزاد یعنی ہاتھ پیر کاٹنے سے بھی اس کی آتش غضب ٹھنڈی نہ ہوئی مذید اس نے سولی پر لٹکانے کا اعلان کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ فرعون بول اٹھا: ”تم موسیٰ کی بات مان گئے پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا۔ یقیناً یہ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اس کا انجام تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی [37] چڑھا دوں گا۔
[37] فرعون کی شکست اور جادوگروں کو سزا دینے کا اعلان :۔
فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا اقرار کر لیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہو گیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہٰذا اب وہ تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہی ساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادوگر تو پہلے ہی موسیٰؑ کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وہ ان کا استاد تھا اور یہ اس کے چیلے تھے۔ ان دونوں نے مل کر مجھے اس انجام تک پہنچایا ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ شکست کے بعد جادوگروں نے مجھے پوچھا تک نہیں نہ مجھ سے مشورہ کیا۔ جادوگر میرے تھے اور مل گئے (موسیٰؑ) سے اب ان کی اس فریب کاری کی میں انہیں پوری پوری سزا دوں گا اور ایسی سزا دوں گا جس سے باقی لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی جرأت تک نہ ہو سکے۔ فرعون دراصل اس اعلان سے دوہرا فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ پہلے بھی اپنے طور پر یہ سمجھ چکا کہ موسیٰؑ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ لیکن دوسروں کو الو بنانے کی خاطر انہیں یہ یقین دلا رہا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی ہارون اللہ کے رسول نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں۔ ہر مقابلہ میں شکست کے بعد عوام الناس میں پھر اسی تاثر کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی اور دوسرے جادوگروں کو سولی چڑھانے کا اعلان کر کے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا تاکہ آئندہ کوئی شخص ان پر ایمان لانے کی جرأت نہ کر سکے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ ٭٭
سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر و ثبات کا کیا کہنا؟ فرعون جیسا ظالم و جابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بے خوف ہو کر اس کی منشأ کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہو گئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آ گئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔
فرعون آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہو گئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ علیہ السلام کی مان لی؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ہارجانے بلکہ پھر مسلمان ہو جانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بے ایمانی اور دغا بازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے؟
عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیا کہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا۔
سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ راجا جی اس میں حرج ہی کیا ہے؟ جو تم سے ہو سکے کر گزرو۔ ہمیں مطلق پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہمیں اسی سے صلہ لینا ہے جتنی تکلیف تو ہمیں دے گا اتنا اجر و ثواب ہمارا رب ہمیں عطافرمائے گا۔ حق پر مصیبت سہنا بالکل معمولی بات ہے جس کا ہمیں مطلق خوف نہیں۔ ہماری تو اب یہی ایک آرزو ہے کہ ہمارا رب ہمارے اگلے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کرے جو مقابلہ تو نے ہم سے کروایا ہے۔ اس کا وبال ہم پر سے ہٹ جائے اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی وسیلہ نہیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ والے بن جائیں ایمان میں سبقت کریں۔‏‏‏‏ اس جواب پر وہ اور بھی بگڑا اور ان سب کو اس نے قتل کرادایا۔ «رضی الله عنهم اجمعین» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر فرعون نے اپنی سرکشی اور ضلالت کو نہ چھوڑا اور وہ اپنی گمراہی اور عناد میں بڑھتا چلا گیا۔اس نے جادوگروں سے کہا: ﴿ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ کیا تم، اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں، اس پر ایمان لے آئے۔ فرعون کے سامنے جادو گروں کی جرأ ت اور اس کی اجازت اور مشورہ کے بغیر ان کے ایمان لانے کے اقدام کو دیکھ کرفرعون اور اس کی قوم حیرت زدہ رہ گئے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُؔكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ بے شک یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ حالانکہ اسی نے جادو گروں کو جمع کیا اور یہ اس کے مصاحبین ہی تھے جنھوں نے دوسرے شہروں سے جادوگروں کو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا۔ حالانکہ ان کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے نہ انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا، نیز ان جادوگروں نے جادو کا ایسا کرتب دکھایا تھا جس نے ناظرین کو حیرت زدہ اور خوف زدہ کر دیا۔ اس کے باوجود فرعون نے ان سے یہ بات کہی، حالانکہ جادوگر خود جادو کے بطلان سے واقف ہو چکے تھے۔
اس قسم کی عقل رکھنے والوں سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ بڑے بڑے معجزات اور واضح حق کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں۔ کیونکہ اگر فرعون کسی بھی چیز کے بارے میں کہتا کہ یہ خلاف حقیقت ہے تو وہ اس کی تصدیق کرتے، پھر فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا: ﴿لَاُقَ٘طِّ٘عَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ میں تمھارے ہاتھ اور پاؤں مخالف اطراف سے کٹوا دوں گا۔ یعنی میں تمھارا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دوں گا۔ جیسا کہ زمین میں فساد پھیلانے والے کو سزا دی جاتی ہے ﴿ وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ اور میں تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا۔ تاکہ ساری دنیا تمھاری ذلت و رسوائی کا تماشہ دیکھے۔
جب جادو گروں نے ایمان کی حلاوت پالی اور اس کا مزا چکھ لیا تو کہنے لگے: ﴿لَا ضَیْرَ کچھ نقصان نہیں۔ یعنی ہمیں تمھاری دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ﴿ٞ اِنَّـاۤ٘ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ اِنَّا نَ٘طْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ بے شک ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب، (کفر اور جادو جیسی،)ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔ ﴿ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اس لیے کہ ہم اوّل ایمان لانے والوں میں ہیں۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر ان لشکروں سے پہلے ایمان لائے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کوثابت قدمی اور صبر عطا کیا۔ اس بات کا احتمال ہے کہ فرعون نے اپنی دھمکی پر عمل کیا ہو کیونکہ اس وقت وہ سلطنت اور اقتدار کا مالک تھا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی دھمکی پر عمل کرنے نہ دیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكنْ أبى فرعونُ إلاَّ عتوًّا وضلالاً وتمادياً في غيِّه وعناداً، فقال للسحرة: {آمنتُم له قبلَ أنْ آذَنَ لكم} يتعجَّبُ ويُعَجِّبُ قومَه من جراءتهم عليه وإقدامِهِم على الإيمانِ من غير إذنِهِ ومؤامرتِهِ، {إنَّه لَكبيرُكُم الذي علَّمَكُمُ السحرَ}: هذا؛ وهو الذي جمع السحرةَ، وملؤه الذين أشاروا عليه بجمعِهِم من مدائنِهِم، وقد علموا أنَّهم ما اجتمعوا بموسى ولا رأوه قبل ذلك، وأنهم جاؤوا من السحر بما يحيِّرُ الناظرين ويُهيلُهم، ومع ذلك؛ فراجَ عليهم هذا القولُ الذي هم بأنفُسِهم وقفوا على بطلانِهِ؛ فلا يُسْتَنْكَرُ على أهل هذه العقول أن لا يُؤْمنوا بالحقِّ الواضح والآيات الباهرةِ؛ لأنَّهم لو قال لهم فرعون عن أيِّ شيءٍ كان، أنَّه على خلاف حقيقته؛ صدَّقوه. ثم توعَّد السحرةَ، فقال: {لأُقَطِّعَنَّ أيْدِيَكُم وأرْجُلَكُم من خِلافٍ}؛ أي: اليد اليمنى والرجل اليسرى؛ كما يفعل بالمُفْسِدِ في الأرض، {ولأصَلِّبَنَّكُم أجمعينَ}: لتختزوا وتذلُّوا، فقال السحرةُ حين وجدوا حلاوةَ الإيمان وذاقوا لَذَّتَه: {لا ضَيْرَ}؛ أي: لا نُبالي بما توعَّدْتَنا به، {إنَّا إلى ربِّنا مُنْقَلِبونَ. إنَّا نطمعُ أن يَغْفِرَ لنا ربُّنا خطايانا}: من الكفر والسحر وغيرهما {أنْ كُنَّا أولَ المؤمنينَ}: بموسى من هؤلاء الجنود. فثبَّتَهم اللهُ وصبَّرهم؛ فيُحْتَمَلُ أنَّ فرعون فعل [بهم] ما توعدهم به لسلطانه واقتداره إذ ذاك، ويحتمل أنَّ الله منعه منهم.