ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 23

قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾
فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟ En
فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا
En
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ فرعون کہنے لگا: ”یہ رب العالمین [16] کیا ہوتا ہے؟
[16] فرعون نے پوری مملکت کے وسائل معاش اپنے قبضہ میں کر رکھے تھے۔ اسی لحاظ سے وہ اپنے آپ کو اپنی رعیت کا پروردگار یا رب سمجھے بیٹھا تھا اور اپنے اعلیٰ رب ہونے کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ اس نے ملک بھر میں اپنے مجسمے نصب کروا رکھے تھے۔ جن کی پوجا کی جاتی تھی اس نے اپنی رعیت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی تھی کہ ان کا پرورش کنندہ میں ہی ہوں۔ لہٰذا موسیٰؑ نے یوں فرمایا کہ ہم ”رب العالمین“ کے رسول ہیں تو وہ فوراً چونک اٹھا اور از راہ حقارت کہنے لگا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ اپنی رعیت کا رب تو میں خود ہوں۔ یہ کون سے رب العالمین کی بات کرتے ہو؟