ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 139

فَکَذَّبُوۡہُ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
چونکہ عادیوں نے حضرت ہود کو جھٹلایا، اس لیے ہم نے انہیں تباه کردیا یقیناً اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر بے ایمان تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

139۔ چنانچہ انہوں نے ہود کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر ڈالا [87]۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی [88] ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
[87] قوم عاد پر عذاب کی کیفیت:۔
جب ان لوگوں نے حضرت ہودؑ کو اور وعدہ عذاب کو جھٹلانے میں حد کر دی اور ان پر حجت تمام ہو گئی تو ان پر اللہ کا عذاب آگیا۔ یہ عذاب قہر الٰہی بن کر نازل ہوا۔ تند و تیز آندھی چلی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز تھی کہ کھڑے آدمیوں کو ان کے پاؤں سے اکھاڑ اکھاڑ کر ایک دوسرے پر پھینک رہی تھی۔ یہ آندھی ان کے مضبوط اور عالی شان گھروں میں گھس گھس کر ان کے ایک ایک فرد کو تباہ کر رہی تھی۔ اس عذاب کے وقت ان کے یہ مضبوط اور عالی شان مکان کسی بھی کام نہ آسکے۔ اور یہ سرکش اور متکبر قوم پوری کی پوری تباہ و برباد کر دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے پہلے ہی ہودؑ کو وحی کر دی تھی۔ چنانچہ وہ عذاب سے پہلے اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت کر کے نکل گئے۔
[88] اس قوم کے انجام سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ معاندین حق کو اتمام حجت کے بعد نیست و نابود کر دیتا ہے اور اپنے فرمانبرداروں کی نجات کی صورت خود ہی پیدا کر دیتا ہے۔ کاش! کوئی اس عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کر سکے۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔