مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا، کچھ نیک عمل تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے
En
70۔ ہاں جو شخص توبہ کر لے اور ایمان [87] لے آئے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
[87] اسلام لانے کے فائدے :۔
یعنی ایسے شدید جرم کرنے والے کافروں میں سے بھی جو شخص ایمان لائے گا۔ اللہ اس کے سابقہ گناہوں کو کلیتاً معاف فرما دے گا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ 1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم نے جو گناہ جاہلیت کے زمانہ میں کئے ہیں کیا ہم سے ان کا مواخذہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام لایا پھر نیک عمل کرتا رہا اس سے جاہلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں ہو گا۔“ [بخاري۔ كتاب استتابة المرتدين] 2۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک شخص (دوران جہاد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ اپنا چہرہ لوہے کے ہتھیاروں سے چھپائے ہوئے تھا۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں پہلے کافروں سے لڑائی کرو یا اسلام لاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسلام لاؤ، پھر لڑائی کرو“ تو وہ مسلمان ہو گیا پھر لڑنے لگا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اس نے عمل تو تھوڑا کیا مگر ثواب بہت زیادہ پایا۔“ [بخاری۔ کتاب الجہاد۔ باب عمل صالح قبل القتال] 3۔ حضرت حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ”میں نے جاہلیت کے زمانہ میں جو اچھے کام کئے تھے مثلاً قرابت داروں سے حسن سلوک، غلام کو آزاد کرنا یا صدقہ و خیرات دینا۔ کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔ تم جو اسلام لائے ہو تو سابقہ نیکیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام لائے ہو۔“ [بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب شراء المملوک من الحربی]
برائیاں نیکیوں میں کیسے بدلتی ہیں؟:۔
ان احادیث سے نتیجہ نکلا کہ اسلام لانے کے دو بڑے فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ سابقہ سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اسلام لانے والا گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے سابقہ نیک اعمال کا اسے اجر بھی ملے گا جبکہ بحالت کفر مرنے پر اسے نیک اعمال کا اسے اجر نہیں مل سکتا تھا۔ ایک تو یہ صورت ہوئی دوسری صورت یہ ہے کہ اسلام لانے والے کے اعمال نامہ میں فی الواقع اس کی برائیوں کی جگہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جو شخص اعمال صالحہ کا خوگر ہو جائے اس سے برائیوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور سابقہ برائیاں معاف کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پا جائیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔