ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 62

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ خِلۡفَۃً لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّذَّکَّرَ اَوۡ اَرَادَ شُکُوۡرًا ﴿۶۲﴾
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا، اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)
En
اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے واﻻ بنایا۔ اس شخص کی نصیحت کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا اراده رکھتا ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو بار بار ایک دوسرے کے بعد آنے والا [79] بنایا۔ اب جو چاہے اس سے سبق حاصل کرے اور جو چاہے شکرگزار بنے
[79] خلفة کا لغوی مفہوم :۔
خلفہ کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے۔ رات کے پیچھے دن آتا ہے اور دن کے پیچھے رات۔ اور یہ بار بار ایک دوسرے کے پیچھے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ نظریہ ہیئت کے مطابق دن رات سورج کے سامنے زمین کی محوری یک روزہ گردش کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔ زمین کا محیط پچیس ہزار میل ہے اور زمین اپنی محوری گردش پورے چوبیس گھنٹہ میں پوری کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر ہم نے زمین کی محوری گردش کی مدت کو چوبیس گھنٹہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اور دن اور رات کے اوقات میں کمی بیشی زمین کی سورج کے گرد سالانہ گردش کی وجہ سے ہوتی ہے اس نظریہ کی رو سے اللہ کی قدرت کے یہ کرشمے اور بھی محیر العقول بن جاتے ہیں۔ جس نے اتنے بڑے بڑے عظیم الجثہ کروں کو بجلی کی تیز رفتاری سے اس طرح محو گردش بنا رکھا ہے کہ ان کے نتائج میں کبھی ایک سیکنڈ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی ان کروں کا آپس میں کہیں تصادم ہوتا ہے۔