بے شک یہ تو قریب تھا کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے گمراہ ہی کر دیتا، اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم ان پر جمے رہے۔ اور عنقریب وہ جان لیں گے جب عذاب دیکھیں گے، کون راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہے۔
En
اگر ہم نے اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا۔ (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے رستے سے کون بھٹکا ہوا ہے
(وه تو کہیئے) کہ ہم اس پر جمے رہے ورنہ انہوں نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اور یہ جب عذابوں کو دیکھیں گے تو انہیں صاف معلوم ہوجائے گا کہ پوری طرح راه سے بھٹکا ہوا کون تھا؟
En
42۔ اگر ہم اپنے معبودوں کی عقیدت پر ڈٹے نہ رہتے تو یہ تو ہمیں ان سے [54] برگشتہ کر کے چھوڑتا“ جلد ہی انھیں معلوم ہو جائے گا جب یہ عذاب دیکھیں گے کہ کون راہ سے بھٹکا ہوا تھا۔
[54] کفار کی بوکھلاہٹ اور خود اپنی تردید :۔
البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے اس میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔ جو بڑے بڑوں کے قدم پھسلا سکتا ہے اور سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے۔ اور اگر ہم لوگ پوری مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے اپنے باپ دادا کے دین پر جمے نہ رہتے تو اس نے تو کب سے ہمیں اپنے معبودوں سے برگشتہ کر دیا ہوتا۔ اب دیکھئے اس نبی کی دعوت سے کچھ اس طرح بوکھلائے ہوئے تھے کہ خود ہی اپنی باتوں کی تردید بھی کرتے جاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ یہ استہزاء کرتے تھے کہ آخر اس نبی میں کیا خوبی ہے کہ اللہ نے اسے ہی اپنی رسالت اور نبوت کے لئے منتخب کیا ہے؟ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ البتہ اس نبی میں یہ خوبی ضرور ہے کہ اس کا پیش کردہ کلام اس قدر پر تاثیر اور زور دار ہے۔ جس کا اثر ہر ایک کے دل کی گہرائیوں تک جا پہنچتا ہے وہ تو ہم ہی تھے جو اپنے دین پر ایسے پکے اور ثابت قدمی سے جمے رہے اور اس کے کلام کا اثر قبول نہیں کیا۔ ورنہ یہ سب کو اپنے دام تزویر میں پھنسا چکا ہوتا۔ قریش کی ان دو متضاد باتوں سے ضمناً چند باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ رسالت کے لئے جو خوبیاں درکار ہوتی ہیں وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود تھیں۔ آپ اللہ کا کلام جس انداز میں پیش کرتے تھے اور اس کا نمونہ اپنی ذات سے پیش کرتے تھے وہ عام لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے بہت کافی تھا۔ دوسرے یہ کہ کفار دلائل کے میدان میں مات کھا چکے تھے۔ اب ان کا انکار محض ضد، ہٹ دھرمی اور تقلید آباء کی بنا پر تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔