25۔ اس دن آسمان کو چیرتے ہوئے ایک بادل نمودار ہو گا [35] اور فرشتوں کو پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے
[35] آسمان و زمین جیسے پہلے دھواں اور گڈ مڈ تھے قیامت کو ویسے ہی ہو جائیں گے :۔
اس آیت کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس مادہ سے آسمانوں کی تخلیق ہوئی تھی وہ پھر اسی مادہ میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے۔ سورہ فصلت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّاسْتَوٰٓياِلَيالسَّمَاءِوَهِيَدُخَانٌ﴾[11:41] ”پھر اللہ تعالیٰ سماء (بلندی) کی طرف متوجہ ہوا اور اس وقت وہ صرف دھواں تھا۔“ اور دوسرے مقام پر فرمایا: آسمان اور زمین سب کچھ گڈ مڈ جمے اور جڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کھول کر الگ الگ کر دیا۔ [21: 30] پہلے ابتداً صرف دھواں ہی دھواں یا گیسوں کا مجموعہ تھا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان بنائے۔ اور قیامت کو یہ آسمان اسی طرح دھوئیں میں تبدیل کر دیئے جائیں گے جو بادلوں کی شکل اختیار کر لے گا۔ اسی بادل میں سے فرشتے میدان محشر کی طرف جوق در جوق اتارے جائیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔