ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 25

وَ یَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ وَ نُزِّلَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۲۵﴾
اورجس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے، لگاتار اتارا جانا۔ En
اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے
En
اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے لگاتار اتارے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) {وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ …: يَوْمَ } پر نصب محذوف {اُذْكُرْ} کی وجہ سے ہے، یعنی اس دن کو یاد کرو۔ {تَشَقَّقُ } اصل میں {تَتَشَقَّقُ} ہے، تخفیف کے لیے ایک تاء حذف کر دی ہے۔ آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ کر اس سے بادل نکلے گا، جیسا کہ کہا جاتا ہے: { تَشَقَّقَتِ الْأَرْضُ بِالنَّبَاتِ } زمین نبات کے ساتھ پھٹی یعنی زمین پھٹ کر اس میں سے نبات نکلی۔ یعنی اس دن کو یاد کرو جب آسمان پھٹ کر اس میں سے سائبانوں کی صورت ایک بادل نکلے گا، جس میں فرشتے جماعتوں کی صورت میں لگا تار میدانِ محشر میں اتارے جائیں گے، جو زمین پر ہو گا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی ہولناکی اور اس میں واقع ہونے والے عظیم معاملات کا ذکر فرما رہے ہیں، جن میں سے آسمان کا پھٹنا اور بادلوں کے ساتھ اس کا کھل جانا بھی ہے، جو نور کے عظیم سائبانوں کی صورت میں ہوں گے۔ پھر فرشتے اتریں گے اور میدانِ محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے، پھر اللہ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ مجاہد نے فرمایا، یہ اسی طرح ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ [البقرۃ: ۲۱۰] وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام تمام کر دیا جائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
اس دن کی کچھ کیفیت ان آیات میں بیان ہوئی ہے، فرمایا: «{ فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ (13) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً (14) فَيَوْمَىِٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (15) وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ (16) وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآىِٕهَا وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ (17) يَوْمَىِٕذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ [الحاقۃ: ۱۳ تا ۱۸] پس جب صور میں پھونکا جائے گا، ایک بار پھونکنا۔ اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا، پس دونوں ٹکرا دیے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔ تو اس دن ہونے والی ہو جائے گی۔ اور آسمان پھٹ جائے گا، پس وہ اس دن کمزور ہو گا۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس دن تم پیش کیے جاؤ گے، تمھاری کوئی چھپی ہوئی بات چھپی نہیں رہے گی۔ اور فرمایا: «{ وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ (68) وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (69) وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَ [الزمر: ۶۸ تا ۷۰] اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اور ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور وہ زیادہ جاننے والا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔ اور فرمایا: «{ كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا (21) وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (22) وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى [الفجر: ۲۱ تا ۲۳] ہر گز نہیں، جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دی جائے گی۔ اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔ اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا، اس دن انسان نصیحت حاصل کرے گا اور (اس وقت) اس کے لیے نصیحت کہاں۔ اتنی صریح آیات کے باوجود کئی بدنصیب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر نزول فرمانے کے منکر ہیں اور ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو انکار سے بھی بدتر ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۰)، فجر (۲۱ تا ۲۳) اور حاقہ (۱۶، ۱۷) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25-1اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور بادل سایہ فگن ہوجائیں گے، اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلو میں، میدان محشر میں، جہاں ساری مخلوق جمع ہوگی، حساب کتاب کے لئے جلوہ فرما ہوگا، جیسا کہ سورة بقرۃ آیت210سے واضح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اس دن آسمان کو چیرتے ہوئے ایک بادل نمودار ہو گا [35] اور فرشتوں کو پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے
[35] آسمان و زمین جیسے پہلے دھواں اور گڈ مڈ تھے قیامت کو ویسے ہی ہو جائیں گے :۔
اس آیت کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس مادہ سے آسمانوں کی تخلیق ہوئی تھی وہ پھر اسی مادہ میں واپس لوٹا دیئے جائیں گے۔ سورہ فصلت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ اسْتَوٰٓي اِلَي السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ [11:41] ”پھر اللہ تعالیٰ سماء (بلندی) کی طرف متوجہ ہوا اور اس وقت وہ صرف دھواں تھا۔“ اور دوسرے مقام پر فرمایا: آسمان اور زمین سب کچھ گڈ مڈ جمے اور جڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کھول کر الگ الگ کر دیا۔ [21: 30]
پہلے ابتداً صرف دھواں ہی دھواں یا گیسوں کا مجموعہ تھا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان بنائے۔ اور قیامت کو یہ آسمان اسی طرح دھوئیں میں تبدیل کر دیئے جائیں گے جو بادلوں کی شکل اختیار کر لے گا۔ اسی بادل میں سے فرشتے میدان محشر کی طرف جوق در جوق اتارے جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فیصلوں کا دن ٭٭
قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے، ان میں سے ایک آسمان کا پھٹ جانا اور نورانی ابر کا نمودار ہونا بھی شامل ہے جس کی روشنی سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں گی، پھر فرشتے اتریں گے اور میدان محشر میں تمام انسانوں کو گھیر لیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کے لیے تشریف لائے گا۔ جیسے فرمان ہے: «هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ» ۱؎ [2-البقرة:210]‏‏‏‏ یعنی کہ ’ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادلوں میں آئیں۔ ‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو سب انسانوں اور کل جنات کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔ تمام جانور، چوپائے، درندے، پرندے اور کل مخلوق وہاں ہو گی پھر آسمان اول پھٹے گا اور اس کے فرشتے اتریں گے جو تمام مخلوق کو دو طرف سے گھیرلیں گے اور وہ گنتی میں بہت زیادہ ہوں گے۔ پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اس کے فرشتے بھی آئیں گے جو زمین کی اور آسمان اول کی تمام مخلوق کی گنتی سے بھی زیادہ ہوں گے۔ پھر تیسرا آسمان شق ہو گا اس کے فرشتے بھی، دونوں آسمانوں کے فرشتے مل کر زمین کی مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، سب کو گھیر کر کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اسی طرح چوتھا پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں۔ پھر ہمارا رب عز و جل ابر کے سائے میں تشریف لائے گا، اس کے اردگرد بزرگ تر پاک فرشتے ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کی کل مخلوق سے بھی زیادہ ہوں گے، ان پر سینگوں جیسے نشان ہونگے، وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اللہ کی تسبیح و تہلیل و تقدس بیان کریں گے، ان کے تلوے سے لے کر ٹخنے تک کا فاصلہ پانچ سو سال کا راستہ ہو گا اور ٹخنے سے گھٹنے تک کا بھی اتنا ہی۔ اور گھٹنے سے ناف تک کا بھی اتنا فاصلہ ہو گا۔ اور ناف سے گردن کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور گردن سے کان کی لو تک بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا اور اس کے اوپر سے سر تک کا بھی اتنا ہی فاصلہ ہو گا۔ ۱؎ [ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ قیامت کا نام «یَوْمَ التَّلاَقِ» اسی لیے ہے کہ اس میں زمین و آسمان والے ملیں گے، انہیں دیکھ کر پہلے تو محشر والے سمجھ لیں گے کہ ہمارا اللہ آیا۔
لیکن فرشتے سمجھا دیں گے کہ وہ آنے والا ہے، ابھی تک نازل نہیں ہوا۔ پھر جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے آ جائیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر تشریف لائے گا جسے آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے جن کے ٹخنے سے گھٹنے تک ستر سال کا راستہ ہے اور ران اور مونڈھے کے درمیان بھی ستر سال کا راستہ ہے۔ ہر فرشتہ دوسرے سے علیحدہ اور جداگانہ ہے۔ ہر ایک کی ٹھوڑی سینے سے لگی ہوئی ہے اور زبان پر «سبُْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ» کا وظیفہ ہے۔ ان کے سروں پر ایک پھیلی ہوئی چیز ہے جیسے سرخ شفق، اس کے اوپر عرش ہو گا۔ اس میں راوی علی بن زید بن جدعان ہیں جو ضعیف ہیں اور بھی اس حدیث میں بہت سی خامیاں ہیں۔ صور کی مشہور حدیث میں بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اور آیت میں ہے کہ ’ اس دن ہو پڑنے والی ہو پڑے گی اور آسمان پھٹ کر روئی کی طرح ہو جائے گا۔ اور اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے لیے ہوں گے۔ ‘ ۱؎ [69-الحاقة:15-17]‏‏‏‏
شہر بن حوشب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ان میں سے چار کی تسبیح تو یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکّ الْحَمْدُ عَلیٰ حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے، تو قابل ستائش و تعریف ہے۔ باوجود علم کے پھر بھی بردباری برتنا تیرا وصف ہے جس پر ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں۔ اور چار کی تسبیح یہ ہو گی «سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلیٰ عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ» اے اللہ! تو پاک ہے اور اپنی تعریفوں کے ساتھ ہے تیرے ہی لیے سب تعریف ہے کہ تو باوجود قدرت کے معاف فرماتا رہتا ہے۔
ابوبکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عرش کو اترتا دیکھ کر اہل محشر کی آنکھیں پھٹ جائیں گی، جسم کانپ اٹھیں گے، دل لرز جائیں گے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت اللہ عز و جل مخلوق کی طرف اترے گا تو درمیان میں ستر ہزار پردے ہوں گے۔ بعض نور کے، بعض ظلمت کے۔ اس ظلمت میں سے ایک ایسی آواز نکلے گی جس سے دل پاش پاش ہو جائیں گے۔ شاید ان کی یہ روایت انہی دو تھیلوں میں سے لی ہوئی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہو گی۔ جیسے فرمان ہے «لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:16]‏‏‏‏ ’ آج ملک کس کے لیے ہے؟ صرف اللہ غالب و قہار کے لیے۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے: { اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا: میں مالک ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:7413]‏‏‏‏
وہ دن کفار پر بڑا بھاری پڑا ہو گا۔ اسی کا بیان اور جگہ بھی ہے کہ { کافروں پر وہ دن گراں گزرے گا۔ } ۱؎ [74-المدثر:9-10]‏‏‏‏
ہاں مومنوں کو اس دن مطلق گھبراہٹ یا پریشانی نہ ہو گی۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پچاس ہزار سال کا دن تو بہت ہی دراز ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مومنوں پر تو وہ ایک وقت کی فرض نماز سے بھی ہلکا اور آسان ہو گا۔ } ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف]‏‏‏‏
پیغمبر علیہ السلام کے طریقے اور آپ کے لائے ہوئے کھلے حق سے ہٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کے سوا دوسری راہوں پہ چلنے والے اس دن بڑے ہی نادم ہونگے اور حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ چبائیں گے۔
گو اس کا نزول عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں ہو یا کسی اور کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر ایسے ظالم کو شامل ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا» ۱؎ [33-الأحزاب:66-67]‏‏‏‏ ’ پس ہر ظالم قیامت کے دن پچھتائے گا، اپنے ہاتھوں کو چبائے گا اور آہ و زاری کر کے کہے گا: کاش! کہ میں نے نبی کی راہ اپنائی ہوتی۔ کاش! کہ میں نے فلاں کی عقیدت مندی نہ کی ہوتی۔ جس نے مجھے راہ حق سے گمراہ کر دیا۔ ‘
امیہ بن خلف کا اور اس کے بھائی ابی بن خلف کا بھی یہی حال ہو گا اور ان کے سوا اور بھی ایسے لوگوں کا یہ حال ہو گا۔ کہے گا کہ اس نے مجھے ذکر یعنی قرآن سے بیگانہ کر دیا حالانکہ وہ مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہے، وہ اسے ناحق کی طرف بلاتا ہے اور حق سے ہٹا دیتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَیَوْمَ تَ٘شَ٘قَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَانَ یَوْمًا عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ یَوْمَ نَحْشُ٘رُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ۰۰ وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا (مریم:19؍85۔86) جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔
﴿اَلْمُلْكُ یَوْمَىِٕذٍ بادشاہی اس روز یعنی قیامت کے روز ﴿ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحْمٰنِ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔
یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يُخبر تعالى عن عَظَمَةِ يوم القيامة وما فيه من الشدَّة والكُروب ومزعجات القلوب، فقال: {ويوم تَشَقَّقُ السماءُ بالغمام}: وذلك الغمام الذي ينزل الله فيه؛ ينزِلُ من فوق السماوات، فَتَنْفَطِرُ له السماواتُ وتشقَّق وتنزِلُ [ملائكةُ] كلِّ سماء، فيقفون صفًّا صفًّا، إمّا صفًّا واحداً محيطاً بالخلائق، وإمّا كلُّ سماء يكونون صفًّا، ثم السماء التي تليها صفًّا ، وهكذا القصدُ أنَّ الملائكةَ على كَثْرَتِهم وقوَّتِهم ينزلون محيطين بالخَلْق مذعِنين لأمرِ ربِّهم لا يتكلَّم منهم أحدٌ إلاَّ بإذن من الله؛ فما ظنُّك بالآدميِّ الضعيف، خصوصاً الذي بارز مالِكَه بالعظائم، وأقدم على مساخطِهِ، ثم قدم عليه بذُنوبٍ وخطايا لم يتبْ منها، فيحكُمُ فيه الملكُ الخلاَّقُ بالحكم الذي لا يجورُ ولا يظلمُ مثقالَ ذرَّةٍ، ولهذا قال: {وكان يوماً على الكافرين عسيراً}: لصعوبتِهِ الشَّديدة وتعسُّرِ أمورِهِ عليه؛ بخلاف المؤمن؛ فإنَّه يسيرٌ عليه خفيفُ الحمل: {ويَوْمَ نحشُرُ المتَّقينَ إلى الرحمن وفداً. ونَسوقُ المجْرِمين إلى جَهَنَّمَ ورْداً}. وقوله: {الملك يومئذٍ}؛ أي: يوم القيامةِ، {الحقُّ للرحمن}: لا يبقى لأحدٍ من المخلوقين مُلْكٌ ولا صورةُ مُلْكٍ؛ كما كانوا في الدنيا، بل قد تساوتِ الملوكُ ورعاياهم والأحرارُ والعبيدُ والأشرافُ وغيرهم.

وممَّا يرتاحُ له القلبُ وتطمئنُّ به النفس وينشرحُ له الصدرُ أنَّه أضاف الملك في يوم القيامة لاسمِهِ الرحمن؛ الذي وسعتْ رحمتُهُ كلَّ شيءٍ، وعمَّت كلَّ حيٍّ، وملأتِ الكائناتِ، وعمرت بها الدُّنيا والآخرة، وتمَّ بها كلُّ ناقص، وزال بها كلُّ نقص، وغلبت الأسماءُ الدالَّةُ عليه الأسماءَ الدالَّة على الغضب، وسبقت رحمتُه غضَبَه وغلبتْه؛ فلها السبق والغلبة، وخَلَقَ هذا الآدميَّ الضعيف وشرَّفَه وكرَّمه لِيُتِمَّ عليه نعمته وليتغمَّدَه برحمته، وقد حضروا في موقف الذلِّ والخضوع والاستكانة بين يديه؛ ينتظرون ما يحكم فيهم وما يُجري عليهم، وهو أرحم بهم من أنفسهم ووالديهم؛ فما ظنُّك بما يعامِلُهم به، ولا يَهْلِكُ على الله إلاَّ هالكٌ، ولا يخرج من رحمتِهِ إلاَّ من غلبتْ عليه الشَّقاوة، وحقَّتْ عليه كلمةُ العذاب.