ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 2

ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا ﴿۲﴾
وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔ En
وہی کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا
En
اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ وہی ذات جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک [5] ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا اور نہ ہی اس کی حکومت میں کوئی شریک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا تو اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ [6] کیا
[5] اللہ کی اولاد نہ ہونے پرا استدلال:۔
یعنی پوری کائنات کا مکمل اقتدار و اختیار آج کی زبان میں اقتدار اعلیٰ (Sovereignty) اسی کے ہاتھ میں ہے اور جب یہ بات تسلیم کر لی جائے تو سب قسم کے شریکوں کی از خود نفی ہو جاتی ہے کیونکہ سب چیزیں اللہ کی مملوک اور وہ ان کا مالک ہے۔ اور بیٹا چونکہ مملوک نہیں ہوتا اور ہم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ہر چیز اللہ کے مملوک ہے تو اس کا کسی سے نسبی تعلق ہونے کی بھی از خود نفی ہو گئی۔
[6] ہر چیز کے متعلق اللہ کا اندازہ کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو، خواہ وہ جاندار ہے یا بے جان، پیدا بھی کیا پھر اس نے ہر ایک چیز کا وظیفہ اور اس کے لئے قوانین بھی بنا دیئے۔ جن سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی۔ مثلاً کوئی جاندار ایسا نہیں جسے موت سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ ہر چیز جو بنتی ہے وہ ضرور کسی نہ کسی وقت فنا بھی ہو جائے گی۔ پانی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی وقت بلندی کی طرف بھی بہنا شروع کر دے یا پستی کی طرف بہنا رک جائے۔ نہ آگ کے لئے ممکن ہے کہ وہ ٹھنڈک پہنچانا شروع کر دے۔ آپ کسی کتے کو عمدہ اور بکثرت غذائیں کھلا پلا کر گھوڑے کے قد کے برابر نہیں کر سکتے غرض ہر ایک چیز کے لئے کچھ حدود اور کچھ وظائف اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیئے ہیں۔ اور یہی ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہے۔