ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 18

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ مَا کَانَ یَنۡۢبَغِیۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِکَ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنۡ مَّتَّعۡتَہُمۡ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی نَسُوا الذِّکۡرَ ۚ وَ کَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴿۱۸﴾
وہ کہیں گے تو پاک ہے، ہمارے لائق نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی بھی طرح کے دوست بناتے اور لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سامان دیا، یہاں تک کہ وہ (تیری ) یاد کو بھول گئے اور وہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔ En
وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے۔ اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے
En
وه جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے بات یہ ہے کہ تو نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو آسودگیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ وه نصیحت بھلا بیٹھے، یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ وہ کہیں گے: ”تیری ذات پاک ہے ہماری مجال نہ تھی کہ تیرے سوا کسی کو کارساز [21] بناتے مگر تو نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو خوب سامان زیست [22] دیا۔ یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے کے قابل۔
[21] ﴿من دون الله﴾ سے مراد صرف بت نہ ہونے کی وجوہ:۔
یعنی معبودوں کو بھی اور ان کی عبادت کرنے والوں کو بھی سب کو آمنے سامنے لا اکٹھا کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ پہلے معبودوں کو ہی مخاطب کر کے پوچھیں گے کہ ”کیا تم نے میرے ان بندوں کو کہا تھا کہ ہم تمہارے مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ لہٰذا ا ہمارے ہاں نذرانے پیش کیا کرو۔ ہم قیامت کے دن تمہیں اللہ سے بخشوا لیں گے“ یا ان عبادت گزاروں اور تمہارے عقیدت مندوں نے خود ہی ایسے عقیدے گھڑ لئے تھے؟ اس سوال کے جواب میں معبود حضرات کہیں گے کہ ”یا اللہ! ہم تو خود تجھے ہی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے رہے تیرے ہی سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے رہے۔ تیرے حضور ہی جھکتے اور نذریں نیازیں گزارتے رہے۔ تجھے ہی اپنا کارساز سمجھتے رہے۔ پھر بھلا ہم انہیں یہ کیسے کہہ سکتے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم ہمیں یا کسی دوسرے کو اپنا کارساز بنا لو“ اس سوال و جواب سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں۔ کیونکہ بے جان کا اللہ کو کارساز بنانے کا کچھ مطلب ہی نہیں۔ ایسے سوال و جواب اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ سے بھی کریں گے۔ جنہیں نصاریٰ نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ [سوره مائده آيت نمبر 116 تا 118]
اسی طرح آگے سورۃ سبا کی آیات نمبر 41، 42 میں مذکور ہے کہ ایسا ہی سوال و جواب فرشتوں سے بھی ہو گا جن کی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ رہی یہ بات کہ عموماً ”ما“ کا لفظ غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے اور ذوی العقول کے لئے ”من“کا لفظ آتا ہے تو یہ کوئی ایسا کلیہ نہیں جس پر استثناء نہ ہو یہ ذوی العقول کے لئے آسکتا ہے جیسے: ﴿إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُم [23: 6] اور استفہامیہ ہونے کی صورت میں بھی آسکتا ہے جیسے مازید بمعنی زید کیا ہے؟(منجد)
[22] قیامت کے دن مطیع و مطاع کا مکالمہ اور ایک دوسرے پر الزام :۔
معبود اپنی بریت کا اظہار کرنے کے بعد کہیں گے کہ ان کے گمراہ ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ بدبخت خود ہی گمراہ اور تباہ ہونا چاہتے تھے جس کا ظاہری سبب یہ بن گیا کہ تو نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو عیش و آرام دیا تھا۔ یہ لوگ بس اسی عیش و آرام میں پڑ کر اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر تیری یاد سے بے نیاز ہو گئے۔ کسی نصیحت پر کان نہ دھرا۔ پیغمبروں کی ہدایت سے آنکھیں بند کر لیں۔ تو نے ان پر جس قدر زیادہ مہربانیاں کیں اتنے ہی یہ نمک حرام ثابت ہوئے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں پر تیرا شکر ادا کرتے۔ مگر یہ الٹے متکبر بن کر کفر و عصیاں پر تل گئے۔