رسول کے بلانے کو اپنے درمیان اس طرح نہ بنالو جیسے تمھارے بعض کا بعض کو بلانا ہے۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں۔ سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آپہنچے۔
En
مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو
تم اللہ تعالیٰ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کرلو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے۔ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے
En
63۔ (مسلمانو)! رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھ لو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے [100] کو بلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے چپکے سے [101] کھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں [102] انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں یا انھیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔
[100] رسول اللہﷺ کا ادب و احترام :۔
اس جملہ کی تین مطلب ہو سکتے ہیں اور تینوں ہی دوست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول کو ایسے نہ بلایا کرو جیسے تم ایک دوسرے کو بے تکلفی سے بلاتے رہتے ہو۔ بلکہ انہیں بلانا ہو تو اس کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھا کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تمہیں بلائے تو ایسا نہ سمجھو جیسے کوئی عام آدمی بلا رہا ہے کہ جی چاہے تو جواب دے دو یا نہ دو یا اگر جی چاہے تو ان کے پاس حاضر ہو جاؤ اور چاہے تو نہ آؤ۔ بلکہ ان کے بلانے پر تم پر واجب ہو جاتا ہے کہ تم ان کے پاس حاضر ہو جاؤ اور ان کی بات سنو پھر اسے بجا لاؤ۔ اور یہ مطلب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت: ﴿يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوااسْتَجِيْبُوْالِلّٰهِوَلِلرَّسُوْلِاِذَادَعَاكُمْ﴾[8: 24] سے ماخوذ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت سعید بن معلیؓ کہتے ہیں کہ: میں نماز پڑھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا: تم میرے بلانے پر کیوں نہ آئے؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿يٰٓاَيُّهَاالَّذِيْنَاٰمَنُوااسْتَجِيْبُوْالِلّٰهِوَلِلرَّسُوْلِاِذَادَعَاكُمْ﴾[بخاري۔ كتاب التفسير۔ زير آيت مذكوره] اس حدیث سے علماء نے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص فریضہ نماز بھی ادا کر رہا ہو تو رسول کے بلانے پر اسے نماز تک چھوڑ کر فوراً حاضر ہو جانا چاہئے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یوں نہ سمجھو جیسے کسی عام آدمی کی دعا ہے۔ بلکہ تمہارے حق میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت سنوارنے کا موجب بن سکتی ہے اسی طرح ان کی بددعا تمہیں تباہ و برباد بھی کر سکتی ہے۔ لہٰذا ان کی اطاعت کر کے انہیں خوش رکھنے اور ان کی دعا لینے کی کوشش کیا کرو۔ [101] دن کے پچھلے حصہ (اصیل) میں تو تین نمازیں آجاتی ہیں۔ مگر پہلے حصے میں ایک بھی فرض نماز نہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ دن کے پہلے حصہ میں کوئی ایسی وحی آجاتی جس سے مسلمانوں کو فوری طور پر آگاہ کرنا ضروری ہوتا تھا۔ اس غرض سے مسجد نبوی میں اذان کہہ کر مسلمانوں کو بلا لیا جاتا۔ آپ وحی سناتے۔ خطبہ ارشاد فرماتے اور حالات حاضرہ سے متعلق بعض دفعہ مشورے بھی مقصود ہوتے تھے اور بعض دفعہ اللہ کے احکام کی فوری نشر و اشاعت۔ اسی سلسلہ میں منافق بھی ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ضرور ہو جاتے اور یہ بات نفاق کا شبہ دور کرنے کی خاطر ان کے لئے ضروری بھی ہوتی تھی۔ حاضری لگوا لینے کے بعد وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ موقع ملے تو چپکے سے کھسک جائیں اور بمصداق جوئندہ یابندہ وہ کھسک بھی جایا کرتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔
[102] رسول اللہﷺ کی مخالفت پر عذاب کی وعید :۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر منافقوں کا آپ کی دعوت کو ناگوار محسوس کرنا، کھسک جانے کی کوشش کرنا۔ آپ کے نصائح پر توجہ نہ دینا یا آپ کی دعوت کو کچھ اہمیت نہ دینا۔ سب رسول کی مخالفت میں آتی ہیں۔ تاہم رسول کی مخالفت کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے اور منافقوں کے لئے یہ فتنہ کیا کم ہے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق جڑ پکڑ جائے اور انھیں اپنی ایسی کرتوتیں بھی اچھی نظر آنے لگیں۔ تاہم آیت کے اس حصہ کا حکم عام ہے جو منافقوں اور مسلمانوں سب کو شامل ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ رہا فتنہ کا مفہوم تو اس کی بے شمار صورتیں ہو سکتی ہیں۔ سب سے واضح صورت مسلمانوں کا داخلی انتشار اور ان کا اجتماعی قوت کا کمزور ہونا اور ان پر ظالم اور جابر حکمران کا مسلط ہو جانا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب احکام شرعیہ کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔