مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب وہ اس کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جو جمع کرنے والا ہے تو اس وقت تک نہیں جاتے کہ اس سے اجازت مانگیں۔ بے شک جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو جب وہ تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے اجازت دے دے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگ، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
62۔ مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ کسی اجتماعی کام میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس سے [99] اجازت لئے بغیر جاتے نہیں (اے رسول)! جو لوگ آپ سے (اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والا ہے، تو جب وہ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اذن مانگیں تو ان میں سے جسے آپ چاہیں اجازت دیں (اور جسے چاہیے نہ دیں) اور ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ اللہ تعالیٰیقیناً بخشنے والا ہے۔
[99] مجلس سے صدر کی اجازت کے بغیر اٹھ کر چلے آنا ممنوع ہے:۔
یعنی ایسے امور جن کا تعلق سب مسلمانوں سے مشترک ہو۔ جیسے جہاد یا مجلس مشاورت، یا کوئی مشترکہ مفادات کے لئے اجتماع ہو۔ خواہ ایسی میٹنگ جنگ یا حالات جنگ سے تعلق رکھتی ہو یا حالت امن سے، مومنوں کا یہ کام نہیں کہ آپ سے اجازت لئے بغیر وہاں سے چل دیں۔ ہاں اگر انھیں کسی ضروری کام کی بنا پر اس مجلس و اجتماع کے اختتام سے پہلے واپس آنا ضروری ہو تو وہ اس سے رخصت ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ اجازت لئے بغیر وہاں سے چلے نہیں آتے۔ اگر وہ اپنی کوئی ضرورت آپ سے بیان کریں۔ تو انھیں اجازت دینا آپ کی صوابدید پر منحصر ہے اور اگر آپ یہ سمجھیں کہ اس کا ذاتی کام اس اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ تو بے شک آپ انہیں اجازت نہ دیں۔ اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیں تو ان کے لئے دعائے مغفرت بھی کیجئے۔ کیونکہ اپنی کسی ذاتی غرض کی خاطر اجتماعی معاملات اور آپ کی صحبت سے محروم رہنا حقیقتاً دنیا کو دین پر ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ لہٰذا اگر کسی مخلص مومن کو اس کی التجا کی بنا پر آپ اجازت دے بھی دیں تو اس کے حق میں آپ کے استغفار کی برکت سے اس تقصیر کا تدارک ہو سکے گا۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی واقعی ضرورت کے بغیر ایسے اجتماعی مفاد کی مجلس سے اجازت طلب کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات یا آپ کی زندگی تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ کے بعد آپ کے خلفائے راشدین یا کسی بھی اسلامی حکومت کے ایسے مشترکہ مفاد کی مجلس سے بلا اجازت چلے آنا آداب مجلس کے ہی خلاف ہے اور شرعاً ناجائز بھی ہے مجلس کو چھوڑ کر جانے کا جواز صرف اس صورت میں ہے کہ فی الحقیقت کوئی ضرورت لاحق ہو۔ جس کی بنا پر میر مجلس سے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کی جائے۔ اور اگر میر مجلس اس کو اجازت دینے یا اس کے ذاتی کام کے مقابلہ میں اس کے شریک مجلس رہنے کو زیادہ اہم سمجھتا ہو اور وہ اجازت نہ دے تو کسی مومن کو اس سے کچھ شکایت نہیں ہونا چاہئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔