تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں داخل ہو جن میں رہائش نہیں کی گئی، جن میں تمھارے فائدے کی کوئی چیز ہو اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
En
ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے
ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائده یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناه نہیں۔ تم جو کچھ بھی ﻇاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے
En
29۔ البتہ بے آباد گھروں میں [37] داخل ہونے سے تم پر کوئی گناہ نہیں جہاں تمہارے فائدے کی کوئی چیز ہو۔ اور اللہ خوب [38] جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔
[37] یعنی ایسے گھر جس میں کوئی خاص آدمی نہ رہتے ہوں۔ جبکہ وہ ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہوں۔ جیسے نمازوں کی ادائیگی کے لئے مساجد، کھانے پینے اور ہائش کے لئے ہوٹل اور سرائیں وغیرہ۔ ایسے مقامات میں داخل ہونے کے لئے کسی اذن لینے کی ضرورت نہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب ایسے گھر بھی ہو سکتے ہیں جو بے آباد، ویران اور گرے پڑے ہوں۔ ان کے مالک انھیں چھوڑ کر چلے گئے ہوں یا نہ معلوم ہوں۔ اور وہاں مثلاً گھاس وغیرہ اگ آئی ہو۔ اور کوئی شخص وہاں سے گھاس کاٹ لے۔ یا ایسا ہی دوسرا فائدہ وہاں سے ہر شخص اٹھا سکتا ہے۔ [38] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود علم کی بنا پر اور تمام امور کی رعایت محفوظ رکھ کر یہ احکام دیئے ہیں جو تمہارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال و افعال سے خوب واقف ہے۔ اور ان سے مقصود فحاشی اور فتنہ و فساد کے راستوں کو بند کرنا ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ اسی غرض کو مد نظر رکھ کر ان پر عمل پیرا ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔