اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں داخل نہ ہو، یہاں تک کہ انس حاصل کر لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام کہو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
En
مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو
اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو
En
27۔ اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا [32] دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ ان کی رضا [33] حاصل نہ کرو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو۔ یہ بات تمہارے [34] حق میں بہتر ہے توقع ہے کہ تم اسے یاد رکھو (اور اس پر عمل کرو) گے۔
[32] اجازت کے بغیر گھر والوں میں داخلہ پر پابندی :۔
اس سے پہلے سورۃ احزاب میں بھی گھروں میں اذن لے کر داخل ہونے کا حکم آ چکا تھا۔ لیکن اس حکم کا دائرہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک محدود تھا۔ مگر اس حکم کے ذریعہ اسے تمام گھروں تک پھیلا دیا گیا۔ اس سے پہلے اس سورۃ میں ایسے احکام بیان ہوئے ہیں۔ جن کا تعلق ایسے حالات سے تھا جب فحاشی کی بنا پر کوئی فتنہ رونما ہو چکا ہو۔ اب ایسے احکام دیئے جا رہے ہیں جن پر عمل کرنے سے کسی فتنہ کے سر اٹھانے کے امکانات کم سے کم رہ جاتے ہیں۔ گویا یہ احکام فحاشی کے پھیلاؤ کے سلسلہ میں سد ذرائع کا حکم رکھتے ہیں۔ عرب معاشرہ میں یہ عام دستور تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا جھجک داخل ہو جاتے تھے۔ اس آیت کے ذریعہ ایسی آزادانہ آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی۔
[33] استأنس کا لغوی معنی:۔
اس آیت میں تستانسوا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مادہ انس ہے جس کا عربی میں بھی وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے یعنی کسی سے مانوس ہونا یا اسے مانوس کرنا۔ اور اس کا مطلب کوئی بھی ایسا کام کرنا ہے جس سے صاحب خانہ کو علم ہو جائے کہ دروازے پر فلاں شخص کھڑا اندر آنے کی اجازت چاہ رہا ہے۔ بعض دفعہ کھنکارنے سے ہی یہ مطلب حاصل ہو جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ بولنے یا السلام علیکم کہنے سے۔ اس طرح صاحب خانہ کو اس کی کھانسی یا آواز سے ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ آواز فلاں شخص کی ہے۔ بعض دفعہ کوئی شخص برقی گھنٹی ہی اس انداز سے دباتا ہے جو اس میں اور صاحب خانہ میں متعارف ہوتی ہے۔ اور گھنٹی بجانے سے ہی صاحب خانہ کو علم ہو جاتا ہے۔ کہ فلاں شخص آ کر آواز دے رہا ہے۔ ایسی تمام صورتیں تستانسوا کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی لئے اس کے قریبی مفہوم ”رضا حاصل کرنا“ سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اب اگر یہ استیناس میں السلام علیکم کہنے سے ہی کیا گیا ہے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر کسی اور طریقہ سے کیا گیا ہے تو گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا بھی ضروری ہے۔ یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”اپنے گھروں“ سے کیا مراد ہے؟ اور اس کے مفہوم میں کون کون سے گھر شامل ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے گھر سے صرف وہ گھر مراد ہے جہاں اس کی بیوی رہتی ہو۔ یہی وہ گھر ہے جس میں شوہر ہر وقت بلا جھجک اور بلا اجازت داخل ہو سکتا ہے۔ اپنی ماں اور بیٹیوں تک کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے استیناس ضروری ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: علاء بن سیار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ ”کیا میں گھر جاتے وقت اپنی ماں سے بھی اذن مانگوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ وہ بولا: ”میں تو اس کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی اجازت لے کر داخل ہو“ وہ کہنے لگا: ”میں ہی تو اس کی خدمت کرتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بھی اجازت لے کر داخل ہو۔“ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تو اپنی ماں کو ننگا دیکھے؟ وہ کہنے لگا: ”نہیں“ آپ نے فرمایا: ”تو پھر اذن لے کر جاؤ۔“ [موطا امام مالک۔ کتاب الجامع۔ باب الاستیذان] اور ”اپنے گھر“ میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت ضرور ہے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر میں یکایک اور اچانک داخل نہ ہو۔
[34] اذن کیوں ضروری ہے؟
یعنی یہ بات صاحب خانہ اور ملاقاتی دونوں کے حق میں بہتر ہے کہ ملاقاتی صاحب خانہ سے پہلے اذن حاصل کرے۔ پھر گھر میں داخل ہو۔ اس لئے کہ اگر ملاقاتی گھر میں بلا اذن داخل ہو تو ممکن ہے اس وقت اہل خانہ اپنی کسی پرائیوٹ گفتگو میں مصروف ہوں، یا عورت بے حجاب پھر رہی ہو۔ یا صاحب خانہ کسی اور مجبوری یا معذوری کی وجہ سے اس وقت ملاقات کرنا ہی نہ چاہتا ہو اور اس طرح ملاقاتی کو خواہ مخواہ خفت یا ندامت حاصل ہو۔ لہٰذا ا مہذبانہ طریقہ یہی ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کی جائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔