اِنَّ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡکِ عُصۡبَۃٌ مِّنۡکُمۡ ؕ لَا تَحۡسَبُوۡہُ شَرًّا لَّکُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ لِکُلِّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ مَّا اکۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ ۚ وَ الَّذِیۡ تَوَلّٰی کِبۡرَہٗ مِنۡہُمۡ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
بے شک وہ لوگ جو یہ بہتان لائے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں، اسے اپنے لیے برا مت سمجھو، بلکہ یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لیے گناہ میں سے وہ ہے جو اس نے گناہ کمایا اور ان میں سے جو اس کے بڑے حصے کا ذمہ دار بنا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا
En
جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ جن لوگوں نے تہمت [12] کی باتیں کیں وہ تم میں سے ایک ٹولہ ہے۔ اسے تم اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا [13] اتنا ہی گناہ کمایا اور ان میں سے جو شخص اس تہمت کے بڑے حصہ کا [14] ذمہ دار بنا اس کے لئے عذاب عظیم ہے۔
[12] یہاں آیت نمبر 11 سے لے کر آیت نمبر 20 تک افک کے واقعہ سے متعلق دس آیات مذکور ہیں۔ جو اس سورت کا شان نزول بنیں۔ ابتدا میں تہمت، قذف زنا کے احکام اور سزا بتانے کے بعد اس واقعہ کا آغاز اور اس پر تبصرہ ہے۔ اس کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی گئی: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَاءُوْ بالْاِفْكِ﴾ یعنی یہ جو کچھ افواہیں پھیلیں اور قصے گھڑے گئے۔ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے جس میں حقیقت کا شائبہ تک نہیں۔ [13] واقعہ افک میں ملوث ہونے والے مسلمان اور ان پر حد قذف :۔
یہ کون لوگ تھے۔ یہ حضرت عائشہؓ ہی کی زبانی سنئے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَهٗ﴾ سے مراد عبد اللہ بن ابی ابن سلول ہے (رئیس المنافقین) ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کرید کرید کر پوچھتا۔ پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہا اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور ﴿وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ﴾ سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں۔ (عبد اللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من لحوم الغوافل (حضرت عائشہ) پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ ”آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَه﴾ الآیہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہو گا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہو گئے تھے) پھر یہ بھی کہا: کہ حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
نیز عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت سیدنا ابوہریرہؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے: ابوہریرہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: حسان! تو اللہ کے رسول کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ! روح القدس سے حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہؓ نے کہا: ”ہاں“ [بخاري۔ كتاب الصلوة باب الشعر فى المسجد]
[14] مندرجہ بالا حضرت عائشہؓ سے منقول مندرجہ بالا احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے تھے۔ متاثر ہونے والے مسلمانوں کے نام جو کتب احادیث و سیر میں ملتے ہیں اور وہ تھے سیدنا حسان بن ثابتؓ، مسطح بن اثاثہؓ اور ام المومنین زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہ بنت جحشؓ یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
2۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کرید کرید کر پوچھتا۔ پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہا اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور ﴿وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ﴾ سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں۔ (عبد اللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من لحوم الغوافل (حضرت عائشہ) پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہؓ سے کہا۔ ”آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِيْ تَوَلّٰي كِبْرَه﴾ الآیہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہو گا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہو گئے تھے) پھر یہ بھی کہا: کہ حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
نیز عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سیدنا حسان بن ثابت سیدنا ابوہریرہؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے: ابوہریرہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا: حسان! تو اللہ کے رسول کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ! روح القدس سے حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہؓ نے کہا: ”ہاں“ [بخاري۔ كتاب الصلوة باب الشعر فى المسجد]
[14] مندرجہ بالا حضرت عائشہؓ سے منقول مندرجہ بالا احادیث سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبد اللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے تھے۔ متاثر ہونے والے مسلمانوں کے نام جو کتب احادیث و سیر میں ملتے ہیں اور وہ تھے سیدنا حسان بن ثابتؓ، مسطح بن اثاثہؓ اور ام المومنین زینب بنت جحشؓ کی بہن حمنہ بنت جحشؓ یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبد اللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
واقعہ افک میں عبد اللہ بن ابی کردار:۔
جب یہ فتنہ گھڑ گیا تو منافق خوش ہو کر اور خوب مزے لے کر ان واہیات باتوں کا تذکرہ کرتے تھے بعض اظہار افسوس کے طور پر، بعض بات چھیڑ دیتے اور خود چپکے سے سنا کرتے، اور مسلمان یہ باتیں سن کر بعض تردد میں پڑ جاتے، بعض خاموش رہتے اور بہت سے یہ باتیں سن کر جھٹلا دیتے۔ اور اس قصہ کا بڑا بوجھ اٹھانے والے اور بانی عبد اللہ کا یہ حال تھا کہ لوگوں کو جمع کرتا اور ابھارتا اور نہایت چالاکی سے اپنا دامن بچا کر دوسروں سے اس کی اشاعت کرایا کرتا تھا۔ اس آیت میں بتلایا یہ جا رہا ہے کہ اس قصہ میں کسی نے جتنا حصہ لیا اسی کے مطابق اسے عذاب عظیم ہو گا۔ ان حالات میں عام انسانی سوچ کے مطابق چاہئے تو تھا کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو اس اخلاقی گراوٹ پر غضب ناک گرفت فرماتے یا مسلمانوں کو جوابی حملے سے اکساتے مگر اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر علیم اور حکیم ہیں نے یہ انداز اختیار فرمایا کہ تمام تر توجہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دینے پر صرف فرمائی کہ تمہارے اخلاقی محاذ میں جہاں رخنے موجود ہیں ان کو بھر کر اس اخلاقی محاذ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنانا چاہئے۔ اسی لئے اس سورۃ میں بہت سے ستر و حجاب کے احکام نازل ہوئے جو آگے آرہے ہیں۔